Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایرانی سرکاری میڈیا نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تہران پر اسرائیلی ہوائی حملوں میں 78 افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ 329 دیگر لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

اسپین کے لاس روڈیو ایئرپورٹ پر ہونے والا طیارہ حادثہ ہوابازی کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ KLM فلائٹ 4805 اور Pan Am فلائٹ 1736 کو بم دھماکے کے بعد لاس پاماس ایئرپورٹ سے ہٹا کر لاس روڈیو پر اتارا گیا۔ غلط فہمی اور جلدبازی کی وجہ سے دونوں طیارے ایک ہی رن وے پر آ گئے اور شدید ٹکر ہو گئی، جس میں 586 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ہندوستان نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ پیش رفت کو لے کر ’’نہایت فکرمند‘‘ ہے اور بدلتی ہوئی صورت حال کی ’’قریب سے نگرانی‘‘ کر رہا ہے۔

میٹنگ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک نے براہ راست پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے سمیت ’’عوام پر مرکوز مصروفیات‘ کو ترجیح دیتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔

148 ممالک نے اس غیر پابند قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں محصور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی جنگ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری پر اسرائیل کا بلا اشتعال حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘

ٹیگور کا آبائی گھر نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پوری دنیا میں ان کے مداحوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے املاک کی حفاظت کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں نمایاں طور پر کشیدگی بڑھ گئی اور طویل عرصے سے چلے آ رہے دو حریفوں کے درمیان وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ حملے تہران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے خدشات اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے مبینہ خطرے کے درمیان ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر فضائی حملہ کیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’قبل از وقت حملہ‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس آپریشن کو ’اپنے وجود کے لیے ایرانی خطرے کو کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ فوجی آپریشن‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر شدید حملے کے بعد ایران، تہران اور شام کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ جب پرواز ایرانی فضائی حدود کے قریب پہنچی تو پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ کیا