Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

وزیراعظم مودی کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی کی جانب سے دیے گئے ضیافتی عشائیے میں ’وندے ماترم‘ کی پُرسوز پیشکش کے ساتھ نہایت پُرخلوص اور دل کو چھو لینے والا استقبال حاصل ہوا۔

وزیر اعظم مودی کے تین ممالک کے دورے کا آج آخری دن ہے۔ اردن اور ایتھوپیا کے بعد آج وہ عمان پہنچیں گے، جہاں وہ سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کریں گے۔

ایتھوپیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین اعزاز ’’گریٹ آنر نشان آف ایتھوپیا‘‘ سے نوازا۔ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے وزیرِاعظم مودی دنیا کے پہلے عالمی سربراہِ مملکت بن گئے۔

وزیراعظم مودی کا یہ دو روزہ سرکاری دورہ وزیراعظم ابی احمد علی کی دعوت پر ہو رہا ہے اور یہ بھارت–ایتھوپیا تعلقات کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دورے کے دوران دونوں رہنما سیاسی مکالمے، ترقیاتی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

وزیراعظم مودی ایتھوپیا میں مقیم بھارتی برادری کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے اور ایتھوپیائی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ یہ 2011 کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا ایتھوپیا کا پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم مودی کے اعزاز میں ادیس ابابا کو استقبالی ہورڈنگز، پوسٹروں اور بھارتی پرچموں سے سجایا گیا ہے۔

سفیر ہریش پی نے پاکستان کے نمائندے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ پہلے بھی بھارت کا حصہ تھے، آج بھی ہیں اور مستقبل میں بھی بھارت ہی کا حصہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کو بار بار عالمی فورمز پر اٹھانا اس کی بھارت مخالف سوچ اور بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ ایک فٹ بال گراؤنڈ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم قریب ہی موجود ایک عمارت کی لوہے کی چھت سے ٹکرا گیا، جس کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی اور شعلے آس پاس کے علاقوں تک پھیل گئے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’پولیس اور ایمرجنسی سروسز موقع پر موجود ہیں اور جانیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کے حامیوں نے زندگی گزارنے کے اخراجات سے نمٹنے کے ان کے طریقے کو زیادہ تر مثبت درجہ دیا ہے۔ دسمبر میں کیے گئے ایک پول میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے تقریباً تین چوتھائی افراد نے ان کی پالیسیوں کی حمایت کی،

براؤن یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدا میں طلبہ اور عملے کو بتایا تھا کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم بعد میں اس بیان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس اب بھی ایک یا ایک سے زیادہ مشتبہ افراد کی تلاش میں ہے۔