Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

اسرائیل-ایران جنگ کا اثراب دبئی تک پہنچ گیا ہے۔ حال ہی میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس ڈرون گرنے سے فیول ٹینک میں دھماکہ ہوا، جس سے آگ لگ گئی۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرایئرپورٹ پرپروازیں عارضی طورپرمعطل کردی گئیں۔

فیڈریشن نے ایرانی قوم اور جوڈو برادری سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم حسین پورسعیدی اور حامد رضا جہان بخش کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دونوں اسلامی جمہوریہ ایران کے فخر تھے، جو جوڈو کے چیمپیئن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی سلامتی کے دفاع میں اپنی جان قربان کر گئے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ نے بتایا کہ پورے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں 24,500 سے زیادہ عوامی مقامات تباہ ہوئے ہیں، جن میں تقریباً 20,000 رہائشی یونٹ، 4,500 تجارتی مراکز اور 69 اسکول شامل ہیں۔

17 جنوری کی شب گل پلازہ میں لگنے والی بھیانک آگ میں 80 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد عوام میں غصہ پھیل گیا اور سندھ حکومت اور کراچی کے میئر پر بروقت کارروائی نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔

خلیجی ممالک نے ایران سے اپنے علاقوں پر حملے بند کرنے کو کہا ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے نہ صرف امریکی فوج کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچوں اور رہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں میں ایران کے تقریباً 200 شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان نمایاں ہے۔ تہران اور مشہد کے بعد اصفہان ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اسے ایران کا اہم صنعتی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں میزائل اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہم ادارے موجود ہیں، جو شہر کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سی بی ایس ای نے کئی ممالک میں بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔ اب طلبہ اور والدین کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نتیجہ کس فارمولے کے تحت تیار کیا جائے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو براہِ راست خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی کمپنیوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔