بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے مقصد سے امریکی شہر نیویارک میں اسکولوں کے اندر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ نئے ضابطے کے تحت ہائی اسکول سے کم عمر طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی، جبکہ ہائی اسکول کے طلبہ کو محدود پائلٹ پروگراموں کے تحت اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی جائے گی۔ اس فیصلے سے شہر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ متاثر ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کی تعلیم میں انسانی رابطے، اساتذہ کی رہنمائی اور ساتھی طلبہ کے ساتھ براہِ راست میل جول کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
ہائی اسکول کے طلبہ کو محدود اجازت
نئے ضابطے کے مطابق کم عمر طلبہ کے لیے اسکولوں میں اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم 14 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہائی اسکول طلبہ کو کچھ مخصوص پائلٹ پروگراموں میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان طلبہ کے لیے سال میں دو مرتبہ اے آئی سے متعلق خواندگی کی کلاسیں بھی منعقد کی جائیں گی، تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا سیکھیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو جذباتی یا ذہنی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر تمام جماعتوں میں مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اساتذہ کا انسانی رابطہ ضروری قرار
نیویارک کے میئر نے اے آئی پر پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی صنعت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ابتدائی تعلیم میں اے آئی کا استعمال نہ صرف ناگزیر بلکہ ضروری بھی ہے، لیکن انتظامیہ اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتی۔ ان کے مطابق بچوں کی بہتر تعلیم اور شخصیت سازی کے لیے اساتذہ اور انسانی رابطہ انتہائی اہم ہیں۔ بچوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہ کر مختلف مہارتیں سیکھنے، اساتذہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور مشکل مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور انتظامی نوعیت کے کاموں کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی اجازت برقرار رہے گی۔
پابندی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ٹاسک فورس
تعلیمی سال 27-2026 کے دوران طلبہ، اساتذہ، والدین، منتخب نمائندوں اور ٹیکنالوجی صنعت کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ یہ ٹیم اے آئی پر عائد پابندی کے اثرات کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ نیویارک کی گورنر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کے لیے مددگار ثابت ہو۔
پہلے نرم پالیسی پر والدین اور اساتذہ نے اٹھائے تھے سوال
اس سے قبل مارچ میں اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک ابتدائی فریم ورک جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت طلبہ کو تحقیق اور تخلیقی منصوبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم متعدد والدین اور اساتذہ نے اس پالیسی کو حد سے زیادہ نرم قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان اعتراضات کے بعد نیویارک کے اسکول انتظامیہ نے اپنے ضابطوں میں تبدیلی کرتے ہوئے کم عمر طلبہ کے لیے اے آئی کے استعمال پر مزید سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مقصد ٹیکنالوجی کی مکمل مخالفت کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بچوں کی تعلیم، ذہنی نشوونما اور انسانی تعلقات پر اس کے منفی اثرات نہ پڑیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


