نئی دہلی : ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنوبی لبنان میں پانی کی فراہمی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث اپنے گھروں کو واپس آنے والے 10 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بحالی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے مقامی وقت کے مطابق جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان واٹر اتھارٹی کے ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی لبنان اور نباتیہ گورنریٹس میں آبی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث سات لاکھ سے زیادہ افراد محفوظ پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔
سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق او سی ایچ اے نے بتایا کہ تالابوں، پمپنگ اسٹیشنوں، ٹیوب ویلوں اور دیگر آبی تنصیبات کی تباہی سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جبکہ زراعت اور لاکھوں لوگوں کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔او سی ایچ اے کے مطابق اب تک آٹھ لاکھ اکیس ہزار سے زیادہ افراد اپنے علاقوں میں واپس آ چکے ہیں، تاہم تقریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ 27 ہزار افراد اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ماہرین نے واضح کیا کہ صرف گھروں کو واپس آ جانا اس بات کی علامت نہیں کہ متاثرین کی انسانی ضروریات ختم ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی امداد اور بحالی کے منصوبوں میں مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے تاکہ بنیادی خدمات بحال کی جا سکیں، لوگوں کے روزگار کو سہارا ملے اور متاثرہ کمیونٹیز محفوظ اور باوقار انداز میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔
اس سے قبل پیر کے روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان میں سے بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔بیروت میں اپنے چار روزہ سرکاری دورے کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ ان کے دفتر نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں سے بعض ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔اقوام متحدہ کے انفارمیشن سینٹر کے مطابق انہوں نے کہا کہ گنجان آباد علاقوں میں مسلسل اسرائیلی فضائی حملوں، گولہ باری اور دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔
وولکر ترک نے مزید بتایا کہ ایک غیر جانبدار اور آزاد تحقیقاتی مشن نے 2 مارچ سے جاری تنازع کے دوران فریقین کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات اور شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔لبنانی حکام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 4,300 سے زائد افراد ہلاک اور 12,200 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 135 سے زائد طبی کارکن، متعدد صحافی اور میڈیا سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

