Bharat Express DD Free Dish

Kangana Stirs Controversy Over Muslim NY Mayor: ’’وہ ہندوستانی سے زیادہ پاکستانی معلوم ہوتے ہیں‘‘، کنگنا رناوت نےنیو یارک کے ممکنہ پہلے مسلم میئر کی مذہبی شناخت پر اٹھائے سوال

ظہران ممدانی کی پیدائش یوگانڈا میں اور پرورش امریکہ میں ہوئی ہے۔ وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے پہلے جنوبی ایشیائی مرد اور تیسرے مسلم رکن بننے کا اعزاز رکھتے ہیں۔

کنگنا رناوت۔ (فائل فوٹو)

ہماچل پردیش کے منڈی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے نیویارک کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری انتخاب جیتنے والے ہند نژاد سیاست دان ظہران ممدانی کی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

واضح رہے کہ ظہران ممدانی نے، جو کہ 33 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ اور نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے موجودہ رکن ہیں، حالیہ ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔ ان کی کامیابی نے انھیں نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر بننے کی دوڑ میں سب سے آگے کر دیا ہے۔

دریں اثنا کنگنا رناوت نے ایک پرانے احتجاج کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ ’’ان کی والدہ میرا نائر، ہماری عظیم فلم ساز، پدم شری ایوارڈ یافتہ، بھارت میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں۔ انھوں نے  محمود ممدانی سے شادی کی جو کہ گجراتی نژاد معروف مصنف ہیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے کا نام ظہران ممدانی رکھا ہے، جو ہندوستانی سے زیادہ پاکستانی لگتا ہے۔ ان کی ہندو شناخت کیا ہوئی؟‘‘

نوجوانوں میں مقبول ہیں ظہران ممدانی

 

واضح رہے کہ ظہران ممدانی کی پیدائش یوگانڈا میں اور پرورش امریکہ میں ہوئی ہے۔ وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے پہلے جنوبی ایشیائی مرد اور تیسرے مسلم رکن بننے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ ان کا سیاسی ایجنڈا ترقی پسند اصلاحات پر مبنی ہے، جس میں کرایوں کو منجمد کرنا، بچوں کی مفت دیکھ بھال، مفت پبلک ٹرانسپورٹ اور امیروں پر ٹیکس شامل ہیں۔

ان کی جیت کو ترقی پسند حلقوں میں خوب سراہا جا رہا ہے۔ سابق گورنر اینڈریو کومو نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آج کی رات ظہران ممدانی کی تھی۔ انھوں نے نوجوانوں کو متاثر کیا اور زبردست مہم چلائی۔ میں نے انھیں فون کر کے مبارکباد دی ہے۔‘‘ وہیں ظہران ممدانی کو الیکزنڈریا اوکاسیو کورٹیز، سینیٹر برنی سینڈرز اور نیویارک ورکنگ فیملیز پارٹی جیسے ترقی پسند لیڈروں اور پارٹیوں کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔

 

ایسے میں کنگنا رناوت کے اس تبصرے نے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ لوگ ان کے بیان کو مذہبی منافرت پر مبنی قرار دے رہے ہیں، جب کہ کچھ ظہران ممدانی کی ’’ہندو شناخت‘‘ نہ ہونے کے کنگنا کے سوال کو درست مان رہے ہیں۔ دریں اثنا خود امریکہ میں ظہران ممدانی کی جیت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read