اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو۔
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دوحہ میں حماس کے لیڈر کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے۔ آئی ڈی ایف اور شِن بیت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے ان حملوں میں حماس کی قیادت کو ہدف بنایا گیا۔ ادھر قطر نے اس حملے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اس بیان میں قطر کا براہِ راست ذکر نہیں ہے، لیکن یہ دوحہ میں بڑے دھماکوں کی خبروں کے بعد آیا ہے، جہاں حماس کی اعلیٰ قیادت رہتی ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’حملے میں مارے گئے قیادت کے اراکین براہِ راست 7 اکتوبر کے قتلِ عام کو انجام دینے اور اسرائیل کے خلاف جنگ چھیڑنے کے ذمہ دار تھے۔‘‘
فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حملے میں شہریوں کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے، جن میں درست نشانے والے ہتھیاروں اور دیگر انٹیلیجنس معلومات کا استعمال شامل ہے۔ اسرائیلی میڈیا ہاؤس ’چینل 12‘ کے مطابق، قطر میں حماس کی قیادت پر اس حملے کا باضابطہ نام ’اتزیریٹ ہادین‘ رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ’قیامت کا دن‘ہے۔
یہودی تہوار شِمِنی اتزیریٹ کی یاد دلاتا ہے نام
یہ نام یہودی تہوار شِمِنی اتزیریٹ کی یاد دلاتا ہے، جب حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ یہ آنے والے یہودی اہم تہواروں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے کی حملے کی مذمت
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’قطر کی ریاست اس بزدلانہ اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتی ہے، جس میں دوحہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد اراکین کے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے اور قطری عوام اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



