اسرائیل-امریکہ اورایران جنگ میں سمندری محاذ کافی گرم ہوگیا ہے۔ ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈ کاپرس (آئی آرجی سی) یا پاسداران انقلاب نے جمعرات کے روزدعویٰ کیا کہ اس کی بحریہ نے شمالی خلیج فارس میں ایک امریکی آئل ٹینکرپرمیزائل حملہ کیا۔ آئی آرجی سی کے مطابق، جہازپرحملہ ہوا اور وہ ابھی جل رہا ہے۔
ایرانی اسٹیٹ میڈیا مہرنیوز کے مطابق، آئی آرجی سی نے کہا کہ یہ حملہ امریکہ کے ‘ایگریشن’ کا جواب ہے اوراسٹریٹ آف ہورمزمیں امریکہ، اسرائیل یا ان کی حمایت کرنے والے یوروپی ممالک کے ملٹری یا کمرشیل جہازوں کو پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگرایسے جہازنظرآئے توانہیں ٹارگیٹ کیا جائے گا۔ آئی آرجی سی نے دہرایا کہ جنگ کے وقت اسٹریٹ آف ہومرز پر کنٹرول ایران کا ہے۔
خلیج میں جہازرانی کے لیے نمایاں خطرات میں اضافہ
یہ حادثہ کچھ گھنٹوں کے بعد پیش آیا جب امریکی آبدوز(سبمرین) نے بحرہند (انڈین اوشن) میں ایرانی فریگیٹ آئی آرآئی ایس ڈینا کوبحرہند میں ڈبونے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔ یہ جہاز ہندوستان کی میلان 2026 بحری مشق سے واپس آرہا تھا اورعملے کے 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ آئی آرجی سی نے اس حملے کو”غیرضروری” قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرح کی کارروائی ہے۔
آئی آرجی سی کے دعوے پرامریکہ نے کیا کہا؟
ابھی تک امریکہ کی طرف سے اس حملے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ امریکہ نے پہلے ایرانی دعووں کو ‘فرضی خبر’ بتایا ہے، لیکن اگریہ صحیح ثابت ہوتا ہے، تواس سے خلیج میں جہازرانی کے لیے خطرات میں نمایاں طورپراضافہ ہوگا۔ اسٹریٹ آف ہرموز (آبنائے ہرموز) دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے اورکئی ٹینکروں پرپہلے ہی حملے ہوچکے ہیں۔ ایران نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تین امریکی-برطانوی ٹینکروں کونشانہ بنایا اوراسٹریٹ کو”بند” کردیا۔ تاہم، امریکہ نے ایران کی بحریہ کوتباہ کردیا ہے، 20 سے زائد جہازوں کو ڈبودیا ہے، جس میں سلیمانی کلاس بھی شامل ہیں۔ CENTCOM کا کہنا ہے کہ ایران کی بحریہ (نیوی) اب ‘یادداشت’ بن چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


