ہند-پاک تنازعہ سے ہمارا کوئی سروکار نہیں: جے ڈی وینس
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ سے بنیادی طور پر ’ہمارا کوئی لینا دینا نہیں‘ ہے۔ حالانکہ، وینس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی تنازعات سے امریکہ کے الگ ہونے کے حامی رہے وینس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہم جو کچھ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان لوگوں (ہندوستان اور پاکستان) کو تھوڑا تناؤ کم کرنا چاہیے، لیکن ہم جنگ کے بیچ میں شامل نہیں ہونے جا رہے ہیں، جس سے بنیادی طور پر ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے اور اسے کنٹرول کرنے کی امریکہ کی صلاحیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں، امریکہ ہندوستانیوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں کہہ سکتا۔ ہم پاکستانیوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔ اور اس لیے ہم اس معاملے کو سفارت کے ذریعہ آگے بڑھانے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری امید اور توقع یہ ہے کہ یہ ایک وسیع علاقائی جنگ یا، خدا نہ کرے، جوہری تنازعہ میں تبدیل نہ ہو۔ فی الحال، ہمیں نہیں لگتا کہ ایسا ہونے والا ہے۔‘‘
وینس کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان نے جموں، پٹھانکوٹ اور کئی دیگر شہروں میں فوجی تنصیبات پر حملے کی ناکام کوششیں کیں۔ ہندوستان کے فضائی دفاعی نظام نے اسلام آباد کی طرف سے داغے گئے کم از کم آٹھ میزائلوں کو مار گرایا۔
بتا دیں کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان اپنی ’ٹیٹ فار ٹیٹ‘ کے اقدامات کو روک دیں، انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ ’مدد‘ کے لیے کچھ کر سکتے ہیں، تو ضرور کریں گے۔
انہوں نے کہا، ’یہ خوفناک ہے۔ میری حیثیت یہ ہے کہ میں دونوں کے ساتھ بہت قریب سے کام کرتا ہوں۔ میں دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور میں انہیں اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں انہیں رکتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں اور امید ہے کہ وہ اب رک سکتے ہیں۔ انہوں نے جیسے کو تیسا کیا ہے اس لیے امید ہے کہ وہ اب رک سکتے ہیں۔ میں دونوں کو جانتا ہوں، ہم دونوں ممالک کے ساتھ بہت اچھی طرح سے کام کر رہے ہیں۔‘‘
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’جنگ‘ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اگر میں مدد کے لیے کچھ کر سکتا ہوں تو میں کروں گا۔‘‘ ٹرمپ کا یہ تبصرہ ہندوستانی فوج کی جانب سے بدھ کے روز پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) اور پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




