Bharat Express DD Free Dish

India-Oman Free Trade Agreement: ہندوستان۔عمان فری ٹریڈ ایگریمنٹ: مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ معاشی تعاون کو نئی رفتار

ہندوستان اور عمان کے درمیان مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ معاشی تعاون کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے نفاذ سے نہ صرف ہندوستان اور عمان کے باہمی تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے ساتھ ہندوستان کے معاشی روابط کو بھی نئی جہت ملے گی۔

مسقط: ہندوستان اور عمان کے درمیان مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ معاشی تعاون کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے نفاذ سے نہ صرف ہندوستان اور عمان کے باہمی تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے ساتھ ہندوستان کے معاشی روابط کو بھی نئی جہت ملے گی۔ ماہرین کے مطابق اس ایف ٹی اے سے ہندوستان کی توانائی سلامتی مستحکم ہوگی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور برآمدات کے تنوع کے ساتھ ساتھ سپلائی چین کو بھی تقویت ملے گی۔ ہندوستان۔عمان فری ٹریڈ ایگریمنٹ اس اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ یہ عمان کا کسی ملک کے ساتھ دوسرا آزاد تجارتی معاہدہ ہوگا، جبکہ تقریباً 20 برس قبل عمان نے اپنا پہلا ایف ٹی اے کیا تھا۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنایا جائے گا، جس سے نہ صرف کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ نئے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 کے بعد سے عمان میں ہندوستانی سرمایہ کاری میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر تقریباً پانچ ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ سرمایہ کاری گرین اسٹیل، گرین امونیا، ایلومینیم مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور دیگر جدید شعبوں میں کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سرمایہ کاری عمان کو ایک طویل مدتی آپریٹنگ بیس کے طور پر اختیار کرنے میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ ایف ٹی اے کو عالمی سطح پر ہندوستان کی بدلتی ہوئی معاشی شناخت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان نے متعدد فری ٹریڈ ایگریمنٹس پر دستخط کیے ہیں، جن کے مثبت اثرات کسانوں، تاجروں اور برآمد کنندگان پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی پالیسی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ اسی سلسلے میں ہندوستان نے حالیہ برسوں میں برطانیہ کے ساتھ ایف ٹی اے کیا، جس کے تحت نوے فیصد سے زیادہ اشیا پر ٹیکس صفر ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہندوستان نے متحدہ عرب امارات، یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن میں شامل ممالک سوئٹزرلینڈ، ناروے، آئس لینڈ کے ساتھ بھی آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ آسٹریلیا کے ساتھ ہونے والا فری ٹریڈ ایگریمنٹ بھی ہندوستانی برآمدات کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان معاہدوں کی فہرست میں ہندوستان۔عمان ایف ٹی اے کا شامل ہونا ایک اسٹریٹجک پیش رفت ہوگی۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ مجوزہ ہندوستان۔عمان فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، آٹوموبائل، زیورات، زرعی کیمیکلز، قابلِ تجدید توانائی اور آٹو کمپونینٹس جیسے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا۔

مسقط میں منعقدہ ہندوستان۔عمان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے عمان کو خلیج تعاون کونسل، مشرقی یورپ، وسطی ایشیا اور افریقہ کے لیے ایک اسٹریٹجک دروازہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمان کی جغرافیائی حیثیت ہندوستانی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرتی ہے۔ عمان میں ای وائی کے ٹیکس پارٹنر الکیش جوشی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ عمان سے دونوں ممالک میں کافی توقعات وابستہ ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ اس دورے کے دوران ہندوستان۔عمان ایف ٹی اے پر حتمی مہر لگ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً دس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر ہے، جو معاہدے کے نفاذ کے بعد اگلے دو سے تین برسوں میں دوگنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور دو طرفہ معاشی تعلقات ایک نئی بلندی پر پہنچ جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read