رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش بھارت سے شیخ حسینہ اور دیگر مطلوب افراد کی حوالگی پر کارروائی چاہتا ہے۔ ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس معاملے پر واضح پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے اہم ہوگی۔ بنگلہ دیشی حکام نے اس معاملے پر بھارت کے جواب کا انتظار کرنے کی بات بھی کہی ہے۔
بھارت دورے پر کیوں پھنسا ہے معاملہ؟
طارق رحمٰن کے بھارت دورے کی ممکنہ تاریخ کے سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کی جانب سے انہیں دو روزہ دوطرفہ دورے اور برکس اجلاس کے آؤٹ ریچ سیشن میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم دورے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ ایسے وقت میں دہرایا گیا ہے جب دونوں ممالک اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حسینہ اگست 2024 میں حکومت سے بے دخل ہونے کے بعد بھارت میں مقیم ہیں اور ڈھاکہ مسلسل ان کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
طارق رحمٰن نے کیا کہا؟
حالیہ ملاقاتوں اور سفارتی رابطوں کے دوران طارق رحمٰن نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ’’سازگار ماحول‘‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی انتظام، علاقائی سلامتی اور پانی کی تقسیم جیسے اہم معاملات پر بھی بات چیت کی ضرورت ہے۔
بھارت کا کیا موقف ہے؟
شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست پر بھارت پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ معاملے کا جائزہ قانونی طریقہ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی نے ساتھ ہی بنگلہ دیش کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ بھارت شیخ حسینہ کی حوالگی کے معاملے پر کیا جواب دیتا ہے اور کیا اس کے بعد طارق رحمٰن کا نئی دہلی دورہ طے پاتا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تعلقات میں شیخ حسینہ کے مسئلے کی اہمیت کو نمایاں کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


