Bharat Express DD Free Dish

India-Bangladesh Relations

بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمٰن کے ممکنہ بھارت دورے سے متعلق نئی سفارتی پیچیدگی سامنے آئی ہے۔ ڈھاکہ نے واضح کیا ہے کہ طارق رحمٰن کے نئی دہلی دورے کے لیے مناسب اور سازگار ماحول بننا ضروری ہے، جبکہ بنگلہ دیش نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے معاملے کو بھی اس دورے سے جوڑ دیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 207 نشستیں جیت کر تاریخی کامیابی حاصل کی، جبکہ گزشتہ 15 برس سے اقتدار میں رہنے والی ترنمول کانگریس کو 80 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ان نتائج کو مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ممتا بنرجی کے طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچا دیا۔

بنگلہ دیش کی سیاست میں اہم تبدیلی کے بعد، وزیراعظم نریندر مودی 17 فروری کو بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے نئے صدر طارق رحمان کے حلف برداری کے موقع پر وہاں نہیں جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کی غیر حاضری میں بھارت کی نمائندگی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کریں گے، جو 17 فروری کو ڈھاکہ پہنچیں گے۔

وزیراعظم مودی نے خالدہ ضیا کے سیاسی ورثے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر انہوں نے ملک کی ترقی اور بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 2015 میں ڈھاکہ میں خالدہ ضیا سے ہونے والی اپنی ملاقات کو بھی یاد کیا۔

32 سالہ شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے دوران سر میں گولی ماری گئی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں خصوصی علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں 18 دسمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔

حال ہی میں وزیراعظم مودی نے خالدہ ضیا کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت مدد کے لیے ہر ممکن تعاون پر تیار ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا: ’’ہم دعا گو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔ بھارت ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔‘‘ بی این پی نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے سرکاری بیان میں بھارتی وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ’’خو‌ش نیتی اور انسانی ہمدردی کا اظہار‘‘ قرار دیا۔

گنگا آبی معاہدہ 12 دسمبر 1996 کو ہوا تھا، جس کا مقصد پانی کی تقسیم کو خشک موسم کے دوران، خصوصاً فرکّا بیراج کے اطراف میں، منصفانہ بنانا تھا۔

بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک سے فرار کے بعد غیر مستحکم رہی ہے۔ حسینہ نے بڑھتے ہوئے مظاہروں کی وجہ سے 5 اگست کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور بھارت میں پناہ لی۔ اس کے بعد بنگلہ دیش میں محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔