اسرائیلی حملے میں حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع ہلاک ہوگئے۔
فلسطینی تنظیم حماس کے زیرانتظام ذرائع ابلاغ نے آج جمعرات کی صبح بتایا ہے کہ غزہ کے شمال میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں تنظیم کے ترجمان عبداللطیف القانوع ہلاک ہوگئے ہیں۔ حماس کے زیرانتظام ٹی وی چینل الاقصیٰ کے مطابق، جبالیا میں القانوع کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا۔ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ مختلف حملوں میں غزہ شہرمیں کم ازکم 6 اورخان یونس میں ایک فلسطینی کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اس سے پہلے رواں ہفتے اسرائیل نے فضائی حملوں میں حماس کے دو اہم رہنما اسماعيل برہوم اور صلاح البردويل کو ہلاک کردیا تھا۔ یہ دونوں افراد حماس کے سیاسی دفترکے ارکان تھے، جو 20 اراکین پرمشتمل ہے۔ حماس کے مطابق اکتوبر، 2023 کوجنگ شروع ہونے کے بعد اب تک ان میں سے 11 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ ہفتے دوبارہ سے بمباری اورزمینی کارروائیاں شروع کرکے دوماہ سے جاری جنگ بندی کوختم کردیا تھا۔ اسرائیل بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس پردباؤ میں اضافہ کررہا ہے۔ دوسری جانب، غزہ میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ منگل 18 مارچ سے اسرائیل کی جانب سے بڑے فوجی حملوں کے دوبارہ آغازکے بعد اب تک کم ازکم 830 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
حماس کے پاس ابھی تک 59 اسرائیلی قیدی باقی ہیں۔ سات اکتوبر2023 کواسرائیل پرغیر معمولی حملے کے دوران حماس نے تقریبا 250 افراد کوقیدی بنا لیا تھا۔ حماس نے اسرائیل پرالزام عائد کیا ہے کہ اس نے لڑائی ختم کرنے کے لیے مستقل معاہدے پرمذاکرات میں وساطت کاروں کی کوششیں برباد کردی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کے احکام اس لیے دیئے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ وسیع کرنے سے متعلق تجاویزمسترد کردیں۔ نیتن یاہو نے کل بدھ کے روزایک بارپھردھمکی دی ہے کہ اگرحماس نے بقیہ قیدی رہا نہ کئے توغزہ کی اراضی پرقبضہ کرلیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

