بنگلہ دیش کی سیاست میں بہت بڑا اپ ڈیٹ سامنے آیا ہے۔ ملک کی عدلیہ نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ انہیں ڈھاکہ کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل آئی سی ٹی نے پانچ میں سے دو مقدمات میں سزائے موت دی ہے، جبکہ باقی مقدمات میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل آئی سی ٹی کو شیخ حسینہ کے والد کی وراثت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور آج اسی وراثت کی وجہ سے شیخ حسینہ پر سنگین الزامات کے تحت آئی سی ٹی نے انہیں سزا دی ہے۔ آئی سی ٹی کی پوری تاریخ کیا ہے اور یہ کیسے شیخ حسینہ کے لیے گلے کی پھانس بن گئی، جانئے۔
کیا ہے آئی سی ٹی ؟
بنگلہ دیش میں قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل آئی سی ٹی کی تشکیل شیخ حسینہ کی حکومت نے 2010 میں کی تھی۔ اس کا مقصد جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرنا اور سزا سنانا تھا۔ شیخ حسینہ کے وزیر اعظم رہتے ہوئے آئی سی ٹی بنایا گیا اور اس کا بنیادی کام 1971 کی آزادی کی جنگ کے دوران ہونے والے جنگی جرائم اور قتل عام کے مقدمات کی سماعت کرنا تھا۔
والدکی وراثت حسینہ کے لیے تکلیف
انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل آئی سی ٹی کی بنیاد اگرچہ شیخ حسینہ نے رکھی، لیکن بنگلہ دیش کے بانی اور حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان نے 1973 میں اس سے متعلق قانون بنایا تھا۔ یہ عمل کئی دہائیوں تک مؤخر ہوتا رہا، مگر بالآخر 2010 میں شیخ حسینہ کی حکومت نے آئی سی ٹی قائم کیا۔
کس معاملے میں سزائے موت؟
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے پیر کے روز سزائے موت سنائی۔ شیخ حسینہ اور ان کی حکومت کے اس وقت کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان کو بھی 12 افراد کے قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ شیخ حسینہ پر جولائی 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران قتل و غارت گری کا ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزامات ثابت ہوئے۔ عدالت نے شیخ حسینہ اور اسد الزمان خان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

