Bharat Express DD Free Dish

Sheikh Mujibur Rahman

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 25 مارچ 1971 کی فوجی کارروائی کے بعد عوامی لیگ کے لیڈرشیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی فوج نے گرفتار کر لیا تھا اور انہیں مغربی پاکستان کی میانوالی جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت انہیں سزائے موت سنائی جا چکی تھی، جس کے باعث ان کے اہل خانہ اور حامی شدید پریشانی اور غم میں مبتلا تھے۔

آزادی کے صرف ساڑھے تین سال بعد 15 اگست 1975 کی رات فوج کے کچھ اہلکاروں نے ڈھاکہ کے دھان منڈی علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں شیخ مجیب الرحمٰن، ان کی اہلیہ شیخ فضیلۃ النساء مجیب، بیٹے شیخ کمال، شیخ جمال، شیخ رسیل اور بہوؤں سمیت خاندان کے 18 افراد مارے گئے۔ اس وقت ان کی دو بیٹیاں، شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ، بیرونِ ملک تھیں، اس لیے وہ محفوظ رہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق، 18 دسمبر کو ہادی کی موت کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب الرحمٰن ہال کی یونین نے اصل تختی ہٹا کر اس کی جگہ ’عثمان ہادی ہال‘ کی تختی نصب کر دی تھی۔ اس کے علاوہ کئی طلبہ نے ہال کی مرکزی عمارت پر نصب مجیب الرحمٰن کے خصوصی دیوار گیر نقش (میورل) پر بھی رنگ پھیر دیا تھا۔

بنگلہ دیش کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل (آئی سی ٹی ) نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی ہے۔ شیخ حسینہ کے آئی سی ٹی کنیکشن کے بارے میں جاننے کے لیے پوری خبر پڑھیے۔

سرجیس نے یہ بھی کہا کہ 5 اگست 2024 کو جس خواب کے لیے ہزاروں طلباء اور شہریوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں، وہ خواب اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں سول سوسائٹی طرز کی کوئی عبوری حکومت نہیں چاہیے بلکہ ایسی حکومت چاہیے جو عوام کے حقوق کو یقینی بنا سکے۔‘‘

نئی کیٹیگری میں ایسے پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے بیرون ملک رہتے ہوئے جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ عالمی رائے عامہ بنانے میں مدد کرنے والے بنگلہ دیشی شہری، مجیب نگر حکومت کے افسران اور ملازمین، ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر معاونین بھی اس میں شامل ہیں۔

پانچ اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن پر بھڑکنے والے تشدد کے درمیان انہیں نہ صرف وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا بلکہ ملک چھوڑ کر ہندوستان میں پناہ لینی پڑی۔ اس قدم کے ساتھ بنگلہ دیش میں ان کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔

اس سے قبل 1975 میں بھی شیخ حسینہ اور ان کی بہن نے بھارت میں پناہ لی تھی۔ پھر وہ 6 سال تک دہلی میں رہیں۔ 15 اگست 1975 کو شیخ حسینہ کے والد اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا

اس سے قبل قوم سے اپنے خطاب میں بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل باقر الزماں نے اعلان کیا کہ شیخ حسینہ نے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ملک کو چلانے کے لیے جلد ہی عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی۔