Bharat Express DD Free Dish

Earthquake Hits Xinjiang China : چین کے سنکیانگ خطے میں 4.7 شدت کا زلزلہ، علاقے میں خوف کی لہر

مقامی وقت کے مطابق زلزلہ صبح 6 بجکر 32 منٹ اور 18 سیکنڈ پر آیا۔ فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ زلزلے کے بعد علاقے میں ہلکی خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔

چین کے خودمختار علاقے سنکیانگ میں جمعرات کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ چین کے قومی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز زمین کے 220 کلومیٹر گہرائی میں واقع تھا۔ مقامی وقت کے مطابق، زلزلہ صبح 6 بجکر 32 منٹ اور 18 سیکنڈ پر آیا۔ فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ زلزلے کے بعد علاقے میں ہلکی خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔

یہ رواں برس کے دوران چین میں آنے والا ایک اور جھٹکا ہے۔ اس سے قبل 26 اکتوبر کو بھی چین میں 4.9 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز 130 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ ماہرین ارضیات کے مطابق کم گہرائی میں آنے والے زلزلے عام طور پر زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ چین کی جغرافیائی ساخت اسے زلزلوں کے لیے ایک حساس ملک بناتی ہے۔ یہ ملک دنیا کی دو بڑی زلزلہ خیز پٹیوں بحرالکاہل زلزلہ پٹی اور ہندوستانی سمندری زلزلہ پٹی کے سنگم پر واقع ہے۔ ان علاقوں میں بحرالکاہل، ہند اور فلپائن ٹیکٹونک پلیٹوں کے دباؤ کی وجہ سے زلزلے اکثر آتے رہتے ہیں۔

چین کے سائنس میوزیم کے اعداد و شمار کے مطابق، 1900 سے اب تک چین میں آنے والے زلزلوں کے نتیجے میں 5 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو عالمی زلزلہ اموات کا تقریباً 53 فیصد ہے۔

سنہ 1949 کے بعد سے چین کے مختلف صوبوں اور خودمختار علاقوں میں 100 سے زیادہ تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں، جن میں سے 14 زلزلے مشرقی چین میں آئے۔ ان سانحات میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئیں، جو ملک میں قدرتی آفات سے ہونے والی مجموعی اموات کا 54 فیصد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ اضلاع کا رقبہ 3 لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اب تک 70 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق زلزلے اور دیگر قدرتی آفات چین کے لیے ایک مستقل چیلنج ہیں، جو پُرامن ادوار میں بھی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read