اسلام آباد: خیبر پختونخوا صوبے میں شدید بارش اور طوفان کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں دو افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہو گئے۔ پاکستان کے روزنامہ دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا کہ ہلاکتیں مردان میں بارش سے متعلق حادثات میں ہوئیں، جبکہ زخمیوں کا تعلق بٹگرام، سوات اور مردان سے ہے۔
گھروں اور انفراسٹرکچر کو نقصان
رپورٹ کے مطابق شدید بارش کے باعث کئی علاقوں میں مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ شانگلہ میں تین مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ بٹگرام میں ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوگیا۔ اس کے علاوہ 27 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، جن میں تورغر کے پانچ، سوات کے دو، اوپری دیر کا ایک اور مردان کا ایک مکان شامل ہے۔ شانگلہ میں ایک اسکول کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔
مزید بارشوں کی پیش گوئی
پاکستان محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 23 مئی تک ملک کے بالائی علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اس سے قبل اپریل میں خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، مہمند اور نوشہرہ میں بارشوں سے متعلقہ واقعات میں تین افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔
چھت گرنے سے بچے کی موت
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ پشاور کے مٹنی علاقے میں چھت گرنے سے ایک بچے کی موت ہو گئی جبکہ دو بچے زخمی ہو گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع مہمند میں بارش سے متعلق ایک حادثے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد زخمی ہوئے۔
مزید حادثات اور مالی نقصان
اسی طرح ایک اور واقعے میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جبکہ باجور کے سرا خواہ علاقے میں بارش کے باعث ایک کمرہ گرنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ حکام کے مطابق مہمند ضلع کے دوویزئی دعوت کور علاقے میں چھت گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر مویشی بھی ہلاک ہوئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے مقامی لوگوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


