Bharat Express DD Free Dish

Lawrence Bishnoi Gang: لارنس بشنوئی کا گینگ کناڈا میں دہشت گرد تنظیم قرار، حکومت نے کہا-‘تشدد اوردہشت پھیلانے کے…’

آنند سنگاری نے کہا، “کینیڈا میں ہرایک کواپنے گھراورکمیونٹی میں محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے۔ بشنوئی گینگ نے مخصوص کمیونٹیز کو دہشت گردی، تشدد اوردھمکیوں سے نشانہ بنایا ہے۔”

گینگسٹر لارنس بشنوئی

کناڈا حکومت نے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ پبلک سیفٹی کے وزیرگیری آنند سنگاری نے کہا کہ یہ اقدام کینیڈا اورعالمی سطح پردہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

بشنوئی گینگ پرکارروائی

بشنوئی گینگ کواب کناڈا کے ضابطہ فوجداری کے تحت دہشت گرد گروپ قراردیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کناڈا میں گروہ کے اثاثے، گاڑیاں، اوررقم کومنجمد یا ضبط کیا جا سکتا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کودہشت گردی سے متعلقہ جرائم جیسے کہ فنڈنگ، سفراوربھرتی کوروکنے میں مدد ملے گی۔

گینگ کی سرگرمیاں

بشنوئی گینگ بنیادی طورپرہندوستان سے کام کرتا ہے اورکناڈا میں بھی اس کا اثرورسوخ ہے۔ یہ قتل، فائرنگ اورآتش زنی کا ارتکاب کرتا ہے اورخوف اوردھمکا کرکمیونٹیزکودہشت زدہ کرتا ہے۔ اسے دہشت گرد تنظیم قراردینے سے پولیس اورسیکورٹی اداروں کے لیے اس کے جرائم کا مقابلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

پبلک سیفٹی کے وزیرنے کیا کہا؟

گیری آنند سنگاری نے کہا، “کناڈا میں ہرایک کو محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے۔ بشنوئی گینگ نے کچھ کمیونٹیزکوڈرایا اوردہشت زدہ کیا ہے۔ ان کی فہرست سے ہمیں ان کے جرائم کوروکنے میں مدد ملے گی۔” بشنوئی گینگ کی شمولیت کے بعد اب کناڈا میں 88 دہشت گرد تنظیمیں درج ہیں۔

 لارنس بشنوئی گینگ نے لی تھی بابا صدیقی کے قتل کی ذمہ داری

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر بابا صدیقی کوگزشتہ سال 12 اکتوبرکوممبئی کے باندرہ میں ان کے بیٹے کے دفترکے باہرگولی مارکرہلاک کردیا گیا تھا۔ گورمیل سنگھ، دھرم راج کشیپ اورشیوکمارگوتم نے بابا صدیقی کوگولی ماردی۔ پولیس نے راہگیروں کی مدد سے گرمیل سنگھ اوردھرم راج کشیپ کوگرفتارکرلیا جبکہ شیوکمارگوتم فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد میں اسے اترپردیش کے بہرائچ میں نیپال فرارہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتارکرلیا گیا۔ لارنس بشنوئی گینگ نے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read