بنگلہ دیش میں زیرِ بحث رہنے والی ’جولائی 2024 بغاوت‘ کے سرکردہ کارکن شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد وہاں کے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ہادی کی موت کی خبر سامنے آتے ہی بنگلہ دیش کے کئی حصوں میں شدید مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں آتش زنی، بھارت مخالف نعرے بازی، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ آدھی رات تک دارالحکومت ڈھاکہ سمیت متعدد علاقوں میں افراتفری کا ماحول برقرار رہا۔
مظاہرین نے عوامی لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگا دی
مظاہرین نے عوامی لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگا دی۔ مظاہرین کے ایک گروپ نے چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے باہر بھی دھرنا دیا۔ احتجاج کی اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ دریں اثناء عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ملک میں تشدد پر تبادلہ خیال کے لیے ڈھاکہ میں ایک اجلاس بلایا ہے۔
احتجاج کیسے تشدد میں بدل گیا
واضح رہے کہ بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرین نے ہادی کے قتل کے خلاف نعرے بازی کے ساتھ ساتھ عوامی لیگ اور بھارت مخالف نعرے بھی لگائے۔ بعد میں پولیس اہلکاروں نے مداخلت کی اور مظاہرین کو جائے وقوعہ سے پیچھے دھکیل دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سنگاپور میں ہادی کی موت کی خبر ملتے ہی لوگ شاہ آباد چوک پر جمع ہو گئے۔ ہادی کی موت سے مشتعل مظاہرین نے سڑک بلاک کردی اور نعرے بازی کی۔ احتجاج تیزی سے تشدد میں بدل گیا۔
علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس تعینات
خولشی پولیس چیف شاہین عالم نے بتایا کہ ہائی کمیشن کے باہر تعینات افراد کو ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس تعینات ہے۔ شریف عثمان ہادی جولائی کی بغاوت اور عوامی لیگ پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی تحریک کے دوران نمایاں ہوئے۔ انہوں نے ڈھاکہ 8 حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو بیجوئے نگر میں انتخابی مہم کے دوران ان پر حملہ کیا گیا تھا۔ چلتی موٹرسائیکل پر سوار حملہ آور نے شریف عثمان ہادی کو اس وقت گولی ماری جب وہ رکشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ گولی ہادی کے سر میں ماری گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

