Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Politics Update

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے گزشتہ سال جولائی میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی لوگ کر رہے تھے جنہوں نے اس سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔

بنگلہ دیش میں جاری سیاسی تعطل اور ناخوشگوار واقعات  نے بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، جس پر امریکی صدر ٹرمپ کی قریبی معاون لورا لومر نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

بھارت مخالف لیڈر شریف عثمان ہادی کی سنگاپور میں علاج کے دوران موت کے بعد بنگلہ دیش میں حالات بے قابو ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ سمیت کئی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے باعث پورے ملک میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ملک کی سیاسی سر گرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ تاریخوں کے اعلان کے بعد شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا پہلا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

حال ہی میں وزیراعظم مودی نے خالدہ ضیا کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت مدد کے لیے ہر ممکن تعاون پر تیار ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا: ’’ہم دعا گو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔ بھارت ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔‘‘ بی این پی نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے سرکاری بیان میں بھارتی وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ’’خو‌ش نیتی اور انسانی ہمدردی کا اظہار‘‘ قرار دیا۔