پاکستانی پارلیمنٹ نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکو قانونی طورپرتینوں مسلح افواج کا سربراہ بنانے اوربری فوج، بحریہ اورفضائیہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول دینے سے متعلق ’’ڈیفنس فورسیزآف پاکستان ایکٹ 2026‘‘ دونوں ایوانوں سے منظورکرلیا ہے۔ نئے قانون کے تحت پاکستانی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرکواب ’’ڈیفنس فورسزہیڈ کوارٹر(ڈی ایف ایچ کیو)‘‘ کہا جائے گا، جہاں تینوں افواج کے سربراہ اورچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل عاصم منیرمرکزی کردارادا کریں گے۔
عاصم منیرکووسیع اختیارات
نئے قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسیزکی حیثیت سے عاصم منیرکوتینوں افواج کے درمیان تال میل قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ بری فوج، بحریہ اورفضائیہ کو چیف آف ڈیفنس فورسزکے احکامات پرعمل کرنا ہوگا۔ قانون کے تحت قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں بھی چیف آف ڈیفنس فورسزکو مداخلت اورکردارادا کرنے کا اختیارحاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ عاصم منیرکوفوجی افسران کے حوالے سے بھی اہم اختیارات دیئے گئے ہیں۔ وہ کسی فوجی افسرکوریٹائرکرسکتے ہیں، عہدے سے ہٹا سکتے ہیں، استعفیٰ قبول یا مسترد کرسکتے ہیں اورریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی افسرکی مدت ملازمت میں توسیع کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت اپنی صوابدید کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسزکومزید اختیارات بھی سونپ سکتی ہے۔
پرانے قوانین پرنئے ایکٹ کوفوقیت
ڈیفنس فورسزآف پاکستان ایکٹ 2026 میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرپاکستان کی بری فوج، بحریہ یا فضائیہ سے متعلق کسی سابقہ قانون، جیسے پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953 اورپاکستان نیوی آرڈیننس 1967 کی کوئی شق نئے قانون سے متصادم ہوتی ہے توایسی صورت میں نئے قانون کی شق کوفوقیت حاصل ہوگی۔ نئے قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسیزکوپاکستانی وزیراعظم کا قومی سلامتی، دفاع اور تینوں افواج سے متعلق معاملات میں اہم فوجی مشیربھی مقررکیا گیا ہے۔ قانون پرعمل درآمد کے لئے چیف آف ڈیفنس فورسزوقتاً فوقتاً ضروری ہدایات اوراحکامات جاری کرسکتے ہیں۔ اگرقانون کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا اس کا کسی دوسرے موجودہ قانون سے ٹکراؤہوتا ہے توصدرِپاکستان حکم جاری کرکے اس مسئلے کودورکرسکتے ہیں۔
قانون کا اطلاق ماضی سے ہوگا
فیلڈ مارشل عاصم منیرکو4 دسمبر2025 کوپاکستان کا چیف آف ڈیفنس فورسزمقررکیا گیا تھا۔ تاہم پارلیمنٹ سے منظورکئے گئے نئے قانون کو13 نومبر2025 سے سابقہ تاریخ سے نافذ (ریٹروایکٹو) قراردیا گیا ہے۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان 4 روزتک جاری رہنے والی جنگ کے بعد انٹیگریٹڈ ٹرائی سروسزآپریشنزاورملٹی ڈومین وارفیئرکومعمول بنانے کے لئے ڈیفنس فورسزہیڈ کوارٹر(ڈی ایف ایچ کیو) قائم کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
