تصویر بشکریہ روئٹرز۔
سوڈان کی فوج اور اس کے حامیوں نے دارالحکومت خرطوم میں صدارتی محل پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے خلاف ایک اہم جوابی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے جمعہ کی یہ فتح سوڈانی فوج کے لیے سب سے بڑا واقعہ ہے۔ آر ایس ایف حالاں کہ جنوبی خرطوم کو کنٹرول کر رہی ہے، تاہم سوڈان میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے دارالحکومت کا بڑا حصہ کھو چکا ہے۔
یہ پیش رفت آر ایس ایف لیڈر محمد ہمدان کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کرنے کے چند دن بعد ہوئی ہے جس میں انھوں نے اپنے جنگجوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ صدارتی محل نہ چھوڑیں۔ آر ایس ایف انخلا کے بعد فوج سے منسلک مسلح لوگوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کچھ رپورٹس کے باوجود عام طور پر عام شہریوں نے فوج کو آزادی دہندگان کے طور پر خوش آمدید کہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کے دفتر کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے خرطوم میں جنگ کے آغاز سے لے کر گزشتہ سال جون تک کم از کم 10,000 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ الجزیرہ کی خبر کے مطابق ایک سوڈانی نوجوان یوسف نے بتایا کہ ’’ایسے علاقوں میں جہاں آر ایس ایف کا کنٹرول ہے، وہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں، خواتین کی عصمت دری کرتے ہیں اور پوری انسانیت کو تباہ کرتے ہیں۔ جب بھی سوڈانی فوج آتی ہے، تو لوگ خوش ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

