Bharat Express DD Free Dish

Veteran actress Zeenat Aman: زینت امان نے بالی ووڈ میں خواتین کے کردار پر کھل کر بات کی، کہا: ماضی میں زیادہ تراداکاراؤں کو صرف نمائشی کردار دیے جاتے تھے

زینت امان نے قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اب فلمی دنیا میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے اور مرکزی اداکارائیں مضبوط اور بااثر کرداروں کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، “میرے خیال میں اب حالات بدل رہے ہیں۔ خواتین بہتر کرداروں کا مطالبہ کر رہی ہیں

نئی دہلی:بالی ووڈ کی معروف اداکارہ زینت امان نے دستاویزی فلم “جرنی اِنٹو انڈیا” کے پروڈیوسرز سے گفتگو کے دوران بھارتی فلم انڈسٹری میں خواتین کے کردار پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں زیادہ تر اداکاراؤں کو صرف نمائشی کردار دیے جاتے تھے،  قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں اور خواتین باوقار و مؤثر کرداروں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔فلم “یادوں کی بارات” کی اداکارہ نے کہا کہ بالی ووڈ میں طویل عرصے تک خواتین کے کردار محض خوبصورتی تک محدود رہے۔انہوں نے کہا، “90 فیصد مواقع پر خواتین کو صرف سجاوٹی کردار دیے جاتے تھے۔ وہ گانے گاتی تھیں، درختوں کے گرد رقص کرتی تھیں اور ہیرو کے اردگرد گھومتی رہتی تھیں، بس یہی ان کا کردار ہوتا تھا۔”

زینت امان نے قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اب فلمی دنیا میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے اور مرکزی اداکارائیں مضبوط اور بااثر کرداروں کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، “میرے خیال میں اب حالات بدل رہے ہیں۔ خواتین بہتر کرداروں کا مطالبہ کر رہی ہیں اور ایسی فلموں میں کام کرنے سے انکار کر دیتی ہیں جہاں ان کا کردار صرف رسمی ہو۔ وہ فلم کی کہانی میں حقیقی حصہ چاہتی ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اب انہیں ایسے مواقع بھی مل رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ بھارت میں خواتین کی شناخت صرف خوبصورتی یا سجاوٹ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے باوقار کردار بھی ملنے چاہییں۔

شاندار فلمی سفر

زینت امان نے 1970 میں فیمینا مس انڈیا اور مس ایشیا پیسفک انٹرنیشنل کا اعزاز جیتنے کے بعد 1971 میں فلم “ہلچل” سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔انہیں اصل شہرت دیو آنند کی فلم “ہرے راما ہرے کرشنا” سے ملی، جس کے بعد وہ بالی ووڈ کی صف اول کی اداکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔اپنے فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،

جن میں “یادوں کی بارات” (1973)، “روٹی کپڑا اور مکان” (1974)، “اجنبی” (1974)، “وارنٹ” (1975)، “چوری میرا کام” (1975)، “دھرم ویر” (1977)، “چھیلا بابو” (1977)، “ہم کسی سے کم نہیں” (1977) اور “دی گریٹ گیمبلر” (1979) شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read