چنڈی گڑھ: چنڈی گڑھ انتظامیہ نے عمارتی ضوابط اور سرکاری ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے معروف گلوکار اور ریپر بادشاہ سے منسلک ایک مشہور کلب کو سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی شہر کے سیکٹر-26 میں واقع کلب کے خلاف کی گئی، جہاں حکام نے طویل عرصے سے موصول ہونے والی شکایات اور جانچ کے بعد کارروائی انجام دی۔ اطلاعات کے مطابق چنڈی گڑھ انتظامیہ کی بلڈنگ برانچ اور اسٹیٹ آفس کی مشترکہ ٹیم نے موقع پر پہنچ کر کلب کے مرکزی دروازے پر سرکاری مہر لگا دی اور ادارے کو بند کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلب کی عمارت میں ایسے متعدد تبدیلیاں کی گئی تھیں جو منظور شدہ نقشے اور بلڈنگ بائی لاز کے مطابق نہیں تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان بے ضابطگیوں کے باعث یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ کو کافی عرصے سے کلب میں تعمیراتی بے قاعدگیوں اور قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر کی گئی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ عمارت کے بعض حصوں میں ایسی تبدیلیاں کی گئی تھیں جن کے لیے متعلقہ محکموں سے ضروری منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔ مزید برآں کچھ تعمیرات مقررہ قواعد و ضوابط کے برخلاف پائی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلب انتظامیہ کو متعدد مرتبہ نوٹس جاری کیے گئے تھے اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ عمارت کو منظور شدہ نقشے اور مقررہ معیار کے مطابق بنائیں۔ نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم انتظامیہ کے مطابق بار بار انتباہ کے باوجود مطلوبہ اصلاحات نہیں کی گئیں، جس کے بعد سیلنگ کی کارروائی انجام دی گئی۔
کارروائی کے دوران سرکاری ٹیم نے کلب کے داخلی راستوں کو بند کرتے ہوئے وہاں سیل چسپاں کر دی اور واضح کیا کہ جب تک تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، کلب کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کارروائی کے بعد علاقے میں کافی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کیونکہ یہ کلب شہر کے معروف تفریحی مقامات میں شمار کیا جاتا تھا۔ دوسری جانب یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ریپر بادشاہ کسی تنازعہ کی وجہ سے خبروں میں آئے ہوں۔ اس سے قبل وہ اپنے گانے ’’ٹٹیری‘‘ کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ چکے ہیں۔ گانے کے بعض بولوں کو غیر مناسب اور خواتین کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جبکہ ہریانہ خواتین کمیشن نے بھی انہیں طلب کیا تھا۔
بعد ازاں بادشاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے وضاحت پیش کی اور معذرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا مقصد کسی خاتون یا کسی طبقے کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ ان کے مطابق ہپ ہاپ موسیقی میں بول عموماً حریفوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ خواتین یا بچوں کے خلاف۔ انہوں نے خود کو ہریانہ کا بیٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کے گانے سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ دل سے معافی چاہتے ہیں۔ تنازعہ کے بعد مذکورہ گانے کو مختلف پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




