نئی دہلی: پھلوں کا بادشاہ آم عموماً اپنی مٹھاس اور لذیذ ذائقے کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے، لیکن غذائیت کے اعتبار سے بھی یہ بے حد اہم پھل ہے۔ اس میں موجود مختلف وٹامنز، معدنیات اور قدرتی اجزاء نہ صرف جسم بلکہ جلد کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آم کو اپنی غذا کے ساتھ ساتھ جلد کی نگہداشت (اسکن کیئر) کا بھی حصہ بناتے ہیں۔
جلد میں قدرتی چمک برقرار رکھتا ہے وٹامن سی
آم میں وافر مقدار میں وٹامن سی پایا جاتا ہے، جو جسم میں کولیجن بنانے کے عمل میں مدد دیتا ہے۔ کولیجن ایک ایسا پروٹین ہے جو جلد کو مضبوطی اور لچک فراہم کرتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی مقدار کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث جھریاں اور جلد کا ڈھیلا پن نمایاں ہونے لگتا ہے۔ وٹامن سی جلد کی قدرتی چمک برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وٹامن اے نئی جلد بنانے میں مددگار
آم میں موجود بیٹا کیروٹین جسم میں جا کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو جلد کے نئے خلیات بنانے اور خراب جلد کی مرمت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس سے خشک، بے جان اور کھردری جلد بہتر ہونے لگتی ہے۔
جلد کو نمی فراہم کرتا ہے وٹامن ای
اس پھل میں وٹامن ای بھی موجود ہوتا ہے، جو جلد کو نمی فراہم کرنے اور اسے نرم و ملائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر خشک جلد والے افراد کے لیے وٹامن ای سے بھرپور غذائیں مفید سمجھی جاتی ہیں۔
آم میں موجود ہوتا ہے اینٹی آکسیڈنٹس
آم میں کاپر، پولی فینولز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں، جو جسم میں بننے والے فری ریڈیکلز کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی فری ریڈیکلز جلد پر بڑھاپے کی علامات کو تیز کرتے ہیں، اس لیے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں جلد کی حفاظت کے لیے مفید مانی جاتی ہیں۔
آم کی گٹھلی اور چھلکا بھی ہیں مفید
صرف آم کا گودا ہی نہیں بلکہ اس کی گٹھلی اور چھلکے میں بھی مفید اجزاء پائے جاتے ہیں۔ گٹھلی سے تیار ہونے والا مینگو بٹر فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے، جو جلد کو نمی فراہم کرنے والی کریموں اور باڈی کیئر مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے کئی کاسمیٹک کمپنیاں اپنے موئسچرائزرز اور دیگر اسکن کیئر مصنوعات میں مینگو بٹر شامل کرتی ہیں۔
گھریلو فیس پیک بھی بنایا جا سکتا ہے
جلد کی دیکھ بھال کے لیے آم کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آم کے گودے میں دہی یا شہد ملا کر فیس پیک تیار کیا جا سکتا ہے، جو جلد کو ٹھنڈک اور نمی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح آم کے گودے میں اوٹس یا دیگر قدرتی اجزاء شامل کر کے ہلکا اسکرب بنایا جا سکتا ہے، جو ڈیڈ اسکن کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔
زیادہ استعمال سے احتیاط ضروری
اگرچہ آم بے شمار فوائد رکھتا ہے، لیکن اس کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ آم میں قدرتی شکر (نیچرل شوگر) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے زیادہ مقدار میں کھانے سے بعض افراد میں جلد پر چکنائی یا مہاسوں کا مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر جن افراد کی جلد پہلے ہی چکنی ہو یا وہ ایکنے کا شکار ہوں، انہیں آم مناسب مقدار میں ہی کھانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق بعض افراد کو آم کے رس، چھلکے یا گودے سے الرجی بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا ایسی صورت میں اس کے استعمال سے قبل ڈاکٹر یا ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




