نئی دہلی :مشہور فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کے ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع گھر پر ہوئی فائرنگ کے معاملے میں ممبئی کرائم برانچ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ اس حملے کے تانے بانے براہِ راست بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ پوری سازش کی کمان مبینہ طور پر جیل کے اندر سے سنبھالی جا رہی تھی۔کرائم برانچ کے مطابق روہت شیٹی پر حملے کی مکمل منصوبہ بندی پروین لونکر اور اس کے بھائی شُبھم لونکر نے کی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شُبھم لونکر کو بشنوئی گینگ کا مہاراشٹر میں اہم ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ مزید چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پروین لونکر اس وقت بابا صدیقی قتل کیس میں جیل میں بند ہے، لیکن قید میں ہونے کے باوجود اس نے نہ صرف حملے کا خاکہ تیار کیا بلکہ مبینہ طور پر شوٹروں کو اسلحہ اور رقم بھی فراہم کی۔
تحقیقات میں یہ سوال سب سے اہم بن گیا ہے کہ سخت سکیورٹی کے باوجود جیل کے اندر سے یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ پولیس اس بات کی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا پروین لونکر کسی خفیہ میسنجر ایپ کا استعمال کر رہا تھا یا جیل کے کسی اندرونی ذریعے سے باہر اپنے ساتھیوں تک پیغامات پہنچا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسے کرائم برانچ کی تحویل میں لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ اس نیٹ ورک کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔اس معاملے میں اب تک ملک کے مختلف حصوں سے 12 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتاریوں کا دائرہ پونے سے لے کر ہریانہ اور اتر پردیش تک پھیلا ہوا ہے۔ گرفتار افراد میں مرکزی شوٹر بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور پستول کا انتظام بھی مبینہ طور پر پروین لونکر کے اشارے پر کیا گیا تھا۔
ممبئی کرائم برانچ کی 12 ٹیمیں دن رات اس کیس پر کام کر رہی ہیں تاکہ بشنوئی گینگ کے مبینہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد سکیورٹی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیل کے اندر کون لوگ پروین کے رابطے میں تھے اور کیا کسی اندرونی ملی بھگت کا امکان موجود ہے۔ذرائع کا ماننا ہے کہ پروین لونکر سے سخت پوچھ گچھ کے بعد گینگ کی ممکنہ ہٹ لسٹ اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں اہم سراغ مل سکتے ہیں۔ فی الحال وہ عدالتی تحویل میں ہے، لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس میں مزید بڑے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
