نئی دہلی: ہائی بلڈ پریشر کو طویل عرصے سے دل کی بیماریوں، فالج اور گردوں کے امراض کی بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر ہمیشہ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے پر زور دیتے ہیں، کیونکہ یہ اکثر کسی واضح علامت کے بغیر بڑھتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ’سائلنٹ کلر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اب ایک نئی تحقیق میں ہائی بلڈ پریشر کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
نئی تحقیق میں کیا ہوا انکشاف؟
حال ہی میں طبی جریدے ’جنرل سائیکاٹری‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا اثر صرف دل اور خون کی شریانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ انسان کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں خاص طور پر بلڈ پریشر کی نچلی ریڈنگ، یعنی ڈایسٹولک بلڈ پریشر، کو منفی جذبات سے وابستہ شخصیتی خصوصیات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
سسٹولک اور ڈایسٹولک بلڈ پریشر
بلڈ پریشر دو پیمانوں پر ناپا جاتا ہے۔ پہلی یا اوپری ریڈنگ کو سسٹولک بلڈ پریشر کہا جاتا ہے، جو دل کی دھڑکن کے دوران خون پمپ ہونے کے وقت شریانوں پر پڑنے والے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری یا نچلی ریڈنگ ڈایسٹولک بلڈ پریشر کہلاتی ہے، جو اس وقت کا دباؤ ظاہر کرتی ہے جب دل دو دھڑکنوں کے درمیان آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق شخصیت پر سسٹولک کے مقابلے میں ڈایسٹولک بلڈ پریشر کا اثر زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
کیا ہے نیوروٹِسزم ؟
ریسرچرس نے جس شخصیتی خصوصیت کا جائزہ لیا، اسے نیوروٹِسزم (Neuroticism) کہا جاتا ہے۔ جن افراد میں نیوروٹِسزم کی سطح زیادہ ہوتی ہے، وہ معمولی باتوں پر زیادہ پریشان ہوتے ہیں، جلد ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، خود پر کم اعتماد رکھتے ہیں اور منفی جذبات سے آسانی سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسے افراد تنقید کو بھی زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں اور دباؤ والی صورتحال سے نمٹنے میں زیادہ دشواری محسوس کرتے ہیں۔ ان میں مستقبل میں بے چینی اور ڈپریشن جیسے ذہنی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بھی نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔
کیسے کی گئی تحقیق؟
اس تعلق کو جانچنے کے لیے سائنس دانوں نے مینڈیلین رینڈمائزیشن نامی جدید سائنسی طریقہ استعمال کیا۔ اس طریقہ کار میں انسانی جینز کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دو عوامل کے درمیان تعلق محض اتفاق ہے یا واقعی ایک دوسرے کی وجہ بنتے ہیں۔ ریسرچرز نے بلڈ پریشر سے متعلق ایک ہزار سے زائد جینیاتی اشاریوں (Genetic Markers) کا تجزیہ کیا اور یورپی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد پر کی گئی آٹھ بڑی تحقیقات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔
کیا ہیں تحقیق کے نتائج
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کا ڈایسٹولک بلڈ پریشر زیادہ تھا، ان میں نیوروٹِسزم کی سطح بھی زیادہ دیکھی گئی۔ یعنی ہائی بلڈ پریشر اور منفی جذبات سے وابستہ شخصیتی رجحانات کے درمیان مضبوط تعلق پایا گیا۔ البتہ تحقیق میں ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ ہائی بلڈ پریشر سیدھے بے چینی یا ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ سب سے مضبوط تعلق صرف نیوروٹِسزم کے ساتھ دیکھا گیا۔
کیا ہو سکتی ہیں وجوہات؟
سائنس دانوں کے مطابق طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر رہنے سے دماغ کی باریک خون کی شریانیں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دماغ کے وہ حصے بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو جذبات اور ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ جو افراد پہلے ہی زیادہ ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار ہوتے ہیں، ان میں وقت کے ساتھ بلڈ پریشر بڑھنے لگے۔ یعنی دونوں کیفیتیں ایک دوسرے کو تقویت دے سکتی ہیں۔
ماہرین کی احتیاطی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مختلف ممالک اور مختلف آبادیوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ابھی واضح نہیں کہ اگر کسی شخص کا بلڈ پریشر قابو میں آ جائے تو کیا اس کی شخصیت میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے یا نہیں۔ بھر بھی اس تحقیق کو دل اور دماغ کے درمیان گہرے تعلق کو سمجھنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہا ہے۔
بی پی کو قابو میں رکھنا ضروری
ماہرین کے مطابق اگر آپ دل کے ساتھ ساتھ اپنی ذہنی صحت کو بھی بہتر رکھنا چاہتے ہیں تو بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے متوازن غذا استعمال کریں، باقاعدگی سے ورزش کریں، مناسب نیند لیں، تمباکو نوشی اور شراب نوشی سے پرہیز کریں، ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


