Bharat Express DD Free Dish

Meteorite Watch: گھڑی ہے یا آسمان کا ٹکڑا؟ 2 کروڑ روپے سے زائد کی اس ٹائم پیس میں چھپا ہے مریخ کا راز!

سوئس واچ میکر Louis Moinet کی 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت والی لگژری گھڑی اپنے منفرد ڈیزائن اور انتہائی نایاب مواد کے استعمال کی وجہ سے خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اس خاص ٹائم پیس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں مریخ سے تعلق رکھنے والے ایک نایاب شہابِ ثاقب کا ٹکڑا استعمال کیا گیا ہے۔

لگژری گھڑیوں کی دنیا میں ایسی ٹائم پیس بھی موجود ہیں جن کی قیمت صرف وقت بتانے کی ٹیکنالوجی سے طے نہیں ہوتی، بلکہ ان کی کہانی اور نایاب مواد انہیں خاص بناتا ہے۔ ایسی ہی ایک منفرد گھڑی ان دنوں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس کی قیمت 2 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ سوئس واچ میکر Louis Moinet کی اس ٹائم پیس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں زمین سے باہر سے آنے والے ایک انتہائی نایاب مادے کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس گھڑی میں 1865 میں بہار میں گرے مریخ کے شہابِ ثاقب کا ایک ٹکڑا شامل کیا گیا ہے۔ یعنی اس ٹائم پیس میں موجود مواد کروڑوں سال پرانی خلائی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

1865 میں بہار میں گرا تھا شہابِ ثاقب

اس گھڑی کو مزید خاص بناتا ہے اس کا ہندوستانی تعلق۔ تقریباً 160 سال قبل بہار میں ایک شہابِ ثاقب گرا تھا، جسے مریخ سے آیا ہوا مانا جاتا ہے۔ اسی نایاب شہابِ ثاقب کے ایک چھوٹے سے حصے کو گھڑی کے ڈیزائن میں شامل کیا گیا ہے۔ لگژری واچ کلیکٹرز کے لیے کسی شہابِ ثاقب کا استعمال اپنے آپ میں انتہائی پرکشش بات ہے۔ عام گھڑیوں سے بالکل مختلف ایسی ٹائم پیس میں تاریخ، سائنس اور فن کا منفرد امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔

18K ریڈ گولڈ اور روبی نے بڑھائی شان

گھڑی کی خوبصورتی صرف مریخ کے ٹکڑے تک محدود نہیں ہے۔ اس کی تیاری میں 18K ریڈ گولڈ کا استعمال کیا گیا ہے، جو اسے انتہائی پریمیم اور شاہانہ انداز فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گھڑی میں روبی اور دیگر باریک آرائشی عناصر بھی شامل کیے گئے ہیں۔

اس کے ڈیزائن میں مور کے پر کا استعمال بھی خاص کشش رکھتا ہے۔ مور کو ہندوستانی ثقافت اور فن میں خوبصورتی اور شان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں گھڑی کے ڈیزائن میں مور کے پر کو شامل کرنا اس کے ہندوستانی تعلق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

گھڑی میں نظر آتا ہے فن اور سائنس کا سنگم

اس ٹائم پیس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی لگژری اور جدید واچ میکنگ کے ساتھ ساتھ خلائی سائنس کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف قیمتی دھات اور جواہرات اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں، تو دوسری جانب مریخ سے منسوب شہابِ ثاقب کا ٹکڑا اسے کلیکٹرز کے لیے غیر معمولی بنا دیتا ہے۔

کلیکٹرز کے لیے کیوں ہے خاص؟

لگژری گھڑیوں کے شوقین افراد کے لیے کسی ٹائم پیس کی قیمت کے ساتھ ساتھ اس کی کہانی بھی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اس گھڑی کی داستان اسے عام لگژری گھڑیوں سے بالکل الگ بناتی ہے۔ بہار کی سرزمین پر گرے شہابِ ثاقب سے لے کر سوئس واچ میکنگ تک کا سفر اسے ایک نایاب کلیکٹرز آئٹم بناتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ گھڑی محض وقت دیکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ خلاء، ہندوستانی ورثے اور سوئس لگژری دستکاری کا ایک منفرد امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں روپے کی یہ ٹائم پیس دنیا بھر کے لگژری اور گھڑیوں کے شوقین افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read