Bharat Express DD Free Dish

Subodh Jain




Bharat Express News Network


ٹاٹا گروپ صرف ایک کاروباری گھرانہ نہیں، بلکہ وہ اعتماد کا نام ہے جسے ہر کوئی سو فیصد خالص مانتا آیا ہے۔ مگر اسی گروپ پر کنٹرول رکھنے والے ٹاٹا ٹرسٹس کے ٹرسٹیوں کے درمیان مفادات کے تصادم نے اس ادارے کو میڈیا کی سرخیوں میں پہنچا دیا ہے۔ اختیار حاصل کرنے کی خواہش سے شروع ہوئے اس تنازع نے صرف صنعتی دنیا ہی نہیں حکومت کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ مانا یہ بھی جا رہا ہے کہ اگر معاملہ جلد نہ سلجھا تو حکومت بالواسطہ مداخلت کے ذریعہ یہاں عارضی منتظم بھی تعینات کر سکتی ہے۔

آئی بی کے ریٹائرڈ اسپیشل ڈائرکٹر مَلَے سنہا کو جم خانہ گھپلوں کی تحقیقات کے لیے مرکزی حکومت کے کچھ نوکرشاہوں کی کرم فرمائی سے جم خانہ کلب کا بورڈ ممبر بنایا گیا تھا۔ بعد میں وہ بورڈ کے دیگر اراکین کی رضامندی سے کلب کے صدر بن گئے۔

ڈی آر آئی (ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس) نے ’آپریشن کرسٹل بریک‘ کے ذریعے مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے مضافاتی علاقے جگدیش پورہ میں چھاپہ مارا تھا۔ گزشتہ ماہ ہوئی اس چھاپہ ماری کے دوران تقریباً 92 کروڑ روپے مالیت کا 61.20 کلو گرام لکوڈ میفیڈرون اور تقریباً ساڑھے پانچ سو کلو خام مال برآمد کیا گیا تھا۔ جس فیکٹری سے یہ مال برآمد ہوا، وہ کافی عرصے سے چل رہی تھی۔ ایسے میں مقامی پولیس اور ایجنسیوں کے کام کاج پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایک کیب ڈرائیور حادثے کے دوران بری طرح زخمی ہونے والے گنجن لوتھرا کو اسپتال لے گیا، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

چار سال قبل دہلی جم خانہ کلب پر بدعنوانی کا الزام لگا کر اس کا انتظام سنبھالنے والی کارپوریٹ امور کی وزارت آخر ایک بھی معاملے کی تحقیقات کیوں نہیں کر پائی؟ کیا وجہ ہے کہ سرکاری پیسے سے عیش کرنے والے سابق بیوروکریٹس اور سیاست دان آج بھی جم خانہ سے چپک کر رہنا چاہتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ NCLAT بھی اس تنازعہ کا حصہ بنتا جا رہا ہے؟

عوامی شکایات کے باوجود دہلی میٹرو کی جانب سے متعدد بار شکایتیں درج کرائی گئیں، لیکن کارروائی کے نام پر صرف کاغذی خانہ پوری کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آشونی یادو کی قیادت میں دہلی پولیس میں بدعنوانی کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے باعث مسئلے کے حل کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کے سی ای او کے طور پر کام کرتے ہوئے، یودھویر سنگھ ملک نے جون 2015 میں نیسلے کے میگی نوڈلز پر ملک بھر میں پابندی لگا دی تھی۔ ان کی قیادت میں کیے گئے ٹیسٹوں کی بنیاد پر، یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ میگی میں مقررہ معیار سے زیادہ لیڈ اور مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (MSG) پائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف ایک سال کے اندر اتھارٹی سے ہٹا دیا گیا، جب کہ ان کا مدت کار تین سال کا تھا۔

ٹاٹا ٹرسٹ کے سی ای او سدھارتھ شرما نے سخت الفاظ میں وضاحت کی ہے کہ ٹاٹا سنز کا موقف بہت مضبوط ہے اور ٹاٹا سنز کے شیئرز قابل منتقلی نہیں ہیں۔ وہ غلط بیانی کرکے رقم اکٹھی کر رہا ہے کہ ڈیفالٹ کی صورت میں ٹاٹا کے حصص آزادانہ طور پر منتقلی کے قابل ہیں۔

منصوبے کی منظوری سے قبل آپ کے اداروں کو وہاں درختوں کی کٹائی اورکھدائی کی اطلاع بروقت مل چکی تھی ،لیکن موقع پر موجود تمام شواہد کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی کیا وجہ تھی؟

متاثرہ لڑکی کے والد کا الزام ہے کہ جس وقت ان کی بیٹی کی عصمت دری کی گئی اس وقت گولو نامی لڑکا بھی گھر کے باہر موجود تھا۔ اسی نے ملزم کو باہر بلایا تھا۔ لڑکی کے بیان دینے کے باوجود لڑکے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔