Bharat Express DD Free Dish

Sibghatullah




Bharat Express News Network


گجرات میں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ریاست کے عوام گزشتہ تین دہائیوں سے نریندر مودی کی قیادت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترقیاتی ماڈل پر مسلسل اعتماد کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بار پھر شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے میونسپل کارپوریشنز سے لے کر پنچایت سطح تک اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

وزیر اعظم نے خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں قومی دھارے میں برابر کی شراکت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی میں خواتین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت ان کی ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

گجرات میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے لوگوں نے ایک بار پھر ترقی اور بہتر طرز حکمرانی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے تمام 15 میونسپل کارپوریشنز پر قبضہ جما لیا ہے۔

حکام کے مطابق اس ٹرین کا کرایہ عام مسافروں کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے، جو اندازاً 700 سے 850 روپے کے درمیان ہو سکتا ہے۔ اس طرح طویل فاصلے کا سفر اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ سستا ہو جائے گا، جو خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم مودی نے وارانسی میں منعقدہ ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کے لیے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ریزرویشن نافذ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ اس مقصد کو ہر حال میں پورا کر کے رہیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے تقریباً 6350 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا۔

این ایچ آر سی کی جانب سے ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ارسال کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ ان طبقات میں غریب اور مزدور طبقہ، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد، بزرگ شہری، بچے، نوزائیدہ اور خاص طور پر بے گھر افراد شامل ہیں، جو شدید گرمی کے دوران سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

حکام کے مطابق دہلی سمیت شمالی ہندوستان کے مختلف علاقے ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث عام زندگی متاثر ہو رہی ہے اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزدوروں کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔

انتظامیہ کے مطابق تقریباً دو لاکھ افراد کی آمد کے پیش نظر تین بڑے پنڈال قائم کیے گئے ہیں، جن میں ڈیڑھ لاکھ کرسیوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ گرمی کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے 700 کولر اور 2000 پنکھے نصب کیے گئے ہیں تاکہ شرکاء کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ 200 موبائل بیت الخلا اور 500 پانی کے ٹینکرز کا بھی بندوبست کیا گیا ہے تاکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔