Bharat Express DD Free Dish

Government Crackdown On Digital Arrest Scams: ڈیجیٹل گرفتاری اور آن لائن فراڈ پر کیسے لگے گی لگام؟ حکومت نے سپریم کورٹ میں پیش کر دی جامع رپورٹ

ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

نئی دہلی: ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل گرفتاری اور آن لائن دھوکہ دہی کے معاملات پر مرکزی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک مفصل رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں فراڈ کی روک تھام کے لیے قانونی اور تکنیکی اقدامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں نہ صرف موجودہ اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی کئی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ یہ رپورٹ وزارت داخلہ ہند کے تحت کام کرنے والے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جسے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں پیش کیا۔ رپورٹ عدالت کے 9 فروری کو جاری کردہ احکامات کی روشنی میں جمع کرائی گئی، جن میں مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل بڑھانے، سائبر جرائم کی شناخت مضبوط بنانے اور متاثرین کے لیے معاوضہ نظام تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ رپورٹ میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ 10 کروڑ روپے سے زائد کے بڑے ڈیجیٹل فراڈ کے معاملات کو سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ان کی مؤثر اور غیر جانبدارانہ تفتیش ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے متاثرین کے لیے ایک باقاعدہ معاوضہ فریم ورک تیار کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ کا سب سے اہم پہلو بایومیٹرک ویریفیکیشن سسٹم (بی آئی وی ایس) کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس نظام کے تحت ملک میں جاری ہونے والے ہر سم کارڈ کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ حکومت نے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کو تین ماہ کے اندر اس سے متعلق قواعد نوٹیفائی کرنے اور چھ ماہ کے اندر تکنیکی نظام نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ منصوبہ ہے کہ دسمبر 2026 تک پورے ملک میں کراس آپریٹر سم مانیٹرنگ سسٹم نافذ کر دیا جائے۔ اس کے تحت ہر صارف کا ایک بنیادی موبائل نمبر ہوگا، جس کے ساتھ دیگر تمام سم کارڈز منسلک رہیں گے۔ اس سے کسی بھی شخص کی مختلف کمپنیوں سے متعدد سم لینے کی سرگرمی پر قابو پایا جا سکے گا اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری شناخت ممکن ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سم جاری کرنے والے پوائنٹ آف سیل ایجنٹس کی مکمل ذمہ داری ٹیلی کام کمپنیوں پر عائد ہوگی اور جعلی سم جاری ہونے کی صورت میں کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

حکومت نے ہدایت دی ہے کہ سم سپلائی چین کا مکمل ڈیٹا ڈیجیٹل انٹیلیجنس پلیٹ فارم پر لازمی طور پر اپ لوڈ کیا جائے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام کے ذریعے مشتبہ کال پیٹرنز اور سم کے استعمال کی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس اقدام سے فراڈ میں ملوث نیٹ ورکس کو جلد از جلد بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

مزید برآں، واٹس ایپ کی جانب سے سم بائنڈنگ فیچر پر بھی کام جاری ہے، جسے آئندہ چھ ماہ میں نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعے صارف کے اکاؤنٹ کو ایک مخصوص سم سے منسلک کر کے غیر مجاز استعمال کو روکا جا سکے گا۔ کمپنی نے عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ جنوری 2026 سے شروع ہونے والے 12 ہفتوں کے دوران بھارت میں ڈیجیٹل گرفتاری گھوٹالوں میں ملوث 9400 سے زائد اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہلی اور گجرات کے تین بڑے مقدمات کی تفتیش سی بی آئی نے شروع کر دی ہے، جن میں کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی سامنے آئی ہے۔ دہلی کے ایک کیس میں 22.92 کروڑ روپے کی بڑی رقم کے فراڈ کا انکشاف ہوا تھا، جس نے حکومت کو مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات نہ صرف ڈیجیٹل فراڈ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کریں گے۔ ماہرین کے مطابق سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایسے مربوط اور جدید اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، جو ملک کو محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read