Bharat Express DD Free Dish

Digital Arrest

سائبر فراڈ سے ہونے والے مالی نقصانات کو کم کرنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے وزیر اعظم نے ریاستی حکومتوں کو ای-زیرو ایف آئی آر نظام جلد نافذ کرنے کی ہدایت دی۔اس نظام کے تحت سائبر جرائم کی شکایت موصول ہوتے ہی فوری طور پر مقدمہ درج کیا جا سکے گا اور ابتدائی کارروائی میں تاخیر نہیں ہوگی، جس سے متاثرہ افراد کے مالی نقصان کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کے 131ویں ایپی سوڈ کے ذریعے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل اریسٹ اور آن لائن مالی دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی اور شہریوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی۔

ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ اور سائبر فراڈ کے واقعات پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ریزرو بینک آف انڈیا، تمام بینکوں اور مرکزی وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ دو جنوری 2026 سے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پورے ملک میں نافذ کیا جائے، تاکہ شہریوں کو آن لائن دھوکہ دہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ پر مرکزی حکومت سخت۔ سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل، سی بی آئی جانچ شروع اور ہائی لیول کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

دہلی میں سائبر ٹھگوں نے بزرگ ڈاکٹر میاں بیوی کو ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر 15 دن تک خوفزدہ کیا۔ جعلی پولیس، عدالت اور جج بن کر ان سے 14.85 کروڑ روپے کی ٹھگی کی گئی۔

سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ’’آپریشن چکر-V‘‘ کے تحت ممبئی میں کئی مقامات پر چھاپے مار کر ڈیجیٹل گرفتاری کیس میں دو اور ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل گرفتاری پر ماہر کمیٹی بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کو میمورنڈم پیش کرے۔ سی جے آئی کے نام پر ٹھگوں کے ذریعہ 7 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی جیسے معاملات نے سائبر سیکورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کے تحت 'پولیس' اور 'پبلک آرڈر' ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ یہ انہیں سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے بنیادی طور پر ذمہ دار بناتا ہے۔

آج کے دور میں، ڈیجیٹل گرفتاری ہندوستان میں مجرموں کے لیے دھوکہ دہی کا ایک نیا ذریعہ بن گئی ہے۔ ایک نیا جرم جس کا قانون میں ذکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے من کی بات کی 115 ویں قسط میں اس کے بارے میں بتایا ہے۔