Bharat Express DD Free Dish

Sibghatullah




Bharat Express News Network


اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے گنگا کے حوالے سے ایک علامتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ گنگا بہار سے آگے بڑھتے ہوئے گنگاساگر تک جاتی ہے اور آج بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے۔

جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، تنظیمی مضبوطی اور زمینی سطح پر کارکنان کی جدوجہد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام تک ترقی اور بہتر حکمرانی کا پیغام پہنچایا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔

بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کل 81,417 طلبہ و طالبات نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 74,637 کامیاب قرار پائے۔ کامیابی کی اس بلند شرح نے ریاست کے تعلیمی معیار اور طلبہ کی محنت کو اجاگر کیا ہے۔ نتائج کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس سال بھی لڑکیوں نے لڑکوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر غیر معمولی انتخابی مہم چلائی، جس نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ پارٹی نے بڑے پیمانے پر ریلیوں، روڈ شوز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹروں تک رسائی حاصل کی اور انتخابی منظرنامے کو یکسر بدلنے کی کوشش کی۔