Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


درخواست گزاروں کو اہم نکات پر اتفاق کرنا چاہیے۔ ان اعتراضات کو نوڈل کونسل کے ذریعے حل کریں۔ عدالت نے مرکز کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ تب تک وقف بورڈ اور کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانونی پر عبوری فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلے کے تحت مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں تفصیلی جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے تب تک اس نئے ترمیمی قانون کے تحت کوئی تقرری نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ وقف ترمیمی قانون پر آج پھر سماعت شروع ہوچکی ہے۔ اور آج ایسا ممکن ہے کہ سپریم کورٹ آج اس قانون سے متعلق عبوری فیصلہ بھی صادر کرے۔

ہندوستانی ایوی ایشن سیکٹر کی یہ ترقی نہ صرف ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دے گی بلکہ معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ اگلے چند سالوں میں، جیسے جیسے نئے جہاز فلیٹ میں شامل ہوں گے اور پائیدار ایندھن کا استعمال بڑھے گا۔

ہندوستان کا سفری و سیاحتی شعبہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع، اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ڈبلیو ٹی ٹی سی کی رپورٹ کے مطابق، یہ شعبہ 2028 تک 512 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور 2029 تک 53 ملین ملازمتوں کو سہارا دے سکتا ہے۔

الیکٹرک بس سیگمنٹ، جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کا بیس تقریباً 3,200 یونٹس ہے، کو حکومت کی پی ایم ای بس سیوا اسکیم سے فروغ ملنے کی توقع ہے۔

اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو ہندوستان نہ صرف آئی فونز بلکہ میزائل، ہیلی کاپٹرز اور جنگی جہازوں جیسے اعلیٰ تکنیکی مصنوعات کا ایک بڑا برآمد کنندہ بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ ہندوستان کا عالمی اثر و رسوخ بھی بڑھے گا۔

سی ایم ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ یہ لوگ یوپی اور بہار کے ویڈیو دکھا کر بنگال کو بدنام کر رہے ہیں۔ یہ کام بی جے پی کر رہی ہے۔ جہاں تک سرحدی حفاظت کا تعلق ہے تو یہ مکمل طور پر بی ایس ایف کی ذمہ داری ہے۔

مسلمانوں کے احتجاج ومظاہرے کے بیچ بی جے پی کا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی مہم کے ذریعے اعتماد بحال کرے گی اور کمیونٹی کے خدشات  کودور کرے گی۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون شفافیت اور بہتری لے کر آئے گا۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے، جس میں فروری میں پاکستان سے 50,000 ٹن چاول کی خریداری شامل ہے۔ یہ اقدام بھارت کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث بنا ہے۔