مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی (فائل فوٹو)
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ پی ایم مودی مسلم کمیونٹی کے خلاف ہیں لیکن جب بھی وہ کسی بھی مغربی ملک میں جانا ہوا ہے تو اسی مسلم کمیونٹی نے ان کا استقبال کیا ہے۔ پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ بی جے پی بھی سی ایم ممتا کے نشانے پر تھی۔ انہوں نے پارٹی پر نفرت کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔سی ایم ممتا بنرجی نے کہا کہ اگرچہ آپ مسلمانوں کے خلاف ہیں لیکن جب آپ سعودی میں ان سے ملتے ہیں، جب دبئی جاتے ہیں تو آپ کس کی مہمان نوازی قبول کرتے ہیں؟ آپ اپنے ملک میں کچھ کہتے ہیں اور دوسرے ملک میں کچھ اور۔ سی ایم ممتا نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں، میں انڈیااتحاد سے اپیل کرتی ہوں کہ متحد رہیں، ہمت کریں اور مل کر لڑیں۔ یہ اب ہمارا ذاتی معاملہ نہیں رہا۔ یہ سب کو متاثر کر رہا ہے۔آج آپ کے خلاف کچھ ہو رہا ہے، کل کسی اور کے ساتھ ہو گا۔ اب یہ لوگ یو سی سی کو بھی متعارف کروانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ تشدد کے بعد مغربی بنگال کے مرشد آباد میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ اس کشیدگی کو لے کر بی جے پی سی ایم ممتا بنرجی پر حملہ کر رہی ہے۔ لیکن جوابی حملہ کرتے ہوئے سی ایم ممتا نے یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ بھڑکانے کا کام بی جے پی کر رہی ہے، یوپی-بہار کی ویڈیو دکھا کر بنگال کو بدنام کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔بدھ کو اماموں سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ یہ لوگ یوپی اور بہار کے ویڈیو دکھا کر بنگال کو بدنام کر رہے ہیں۔ یہ کام بی جے پی کر رہی ہے۔ جہاں تک سرحدی حفاظت کا تعلق ہے تو یہ مکمل طور پر بی ایس ایف کی ذمہ داری ہے۔ سی ایم نے زور دیا کہ مرکز کو اپنی ناکامیوں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ ممتا نے کہا کہ وہ بتائیں کہ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا ہے۔ یہاں ادویات اور پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں لیکن کچھ لوگ بنگال کے خلاف ہی بولتے ہیں۔ ہمت ہے تو میرے پیچھے نہیں میرے سامنے بولو۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


