Bharat Express DD Free Dish

Murshidabad violence

گورنر نے مرکزی فورسز کی تعیناتی، انکوائری کمیشن کا قیام اور ضرورت پڑنے پر آئین کی دفعہ 356 کے آپشن پر غور کرنے سمیت کئی سخت تجاویز دی ہیں۔ آرٹیکل 356 کا مطلب ریاست میں صدر راج نافذ کرنا ہے۔

سی ایم ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ یہ لوگ یوپی اور بہار کے ویڈیو دکھا کر بنگال کو بدنام کر رہے ہیں۔ یہ کام بی جے پی کر رہی ہے۔ جہاں تک سرحدی حفاظت کا تعلق ہے تو یہ مکمل طور پر بی ایس ایف کی ذمہ داری ہے۔

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں وقف قانون کے خلاف ہوئے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد کے بعد ریاست کی صورتحال کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی اورترنمول کانگریس آمنے سامنے ہیں اوردونوں ایک دوسرے پرالزام تراشی کررہی ہیں۔

سی ایم یوگی نے کہا کہ بنگال جل رہا ہے لیکن وہاں کی وزیر اعلیٰ خاموش ہیں۔ وہ فسادیوں کو امن پسند کہتی ہیں۔ سی ایم یوگی نے کہا کہ سیکولرازم کے نام پر فسادیوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی بنگال تشدد پر خاموش ہیں۔

مغربی بنگال میں تشدد سے متاثرہ مرشد آباد میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں، دکانیں دوبارہ کھلنے لگی ہیں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی واپسی شروع ہو رہی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ترون چُگھ نے اتوار کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر مرشد آباد تشدد کے حوالے سے طنز کرتے ہوئے ان کا موازنہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح سے کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران جب  محمود مدنی سے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں تشدد کے بارے میں سوال پوچھا گیاتو وہ غصے میں آگئے۔ انہوں نے کہا، 'جو سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں، آپ کو وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہیے کہ مرشد آباد کیوں جل رہا ہے؟

مرکزی حکومت کی جانب سے نیم فوجی دستوں کی 5 کمپنیاں مغربی بنگال کے تشدد زدہ علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔ بی ایس ایف کے 300 فوجی پہلے ہی وہاں تعینات ہیں۔ مرشد آباد تشدد کے بعد ممتا بنرجی نے تمام مذاہب کے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔