مغربی بنگال میں تشدد سے متاثرہ مرشد آباد میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں، دکانیں دوبارہ کھلنے لگی ہیں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی واپسی شروع ہو رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امن و امان) جاوید شمیم نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امن و استحکام کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ انھوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’دکانیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں اور لوگ واپس آ رہے ہیں۔ اب تک 19 خاندان اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ مالدہ اور مرشد آباد دونوں ضلع انتظامیہ ان لوگوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں، جو بھاگ گئے تھے۔
عوام سے افواہیں نہ پھیلانے کی اپیل کی
انھوں نے مزید بدامنی کو روکنے کے لیے افواہوں کو پھیلانے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اب تک 210 گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔ میں لوگوں سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور معلومات کی تصدیق کرنے کی تاکید کرتا ہوں۔ اگر ہمیں امن قائم رکھنا ہے تو افواہ پھیلانا بند ہونا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ جمعہ کو مرشد آباد کے سوتی، دھولیان، سمسیر گنج اور جانگی پور علاقوں میں بھڑکنے والے تشدد میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
اس تشدد کے دوران ایک باپ اور بیٹے کے وحشیانہ قتل کا حوالہ دیتے ہوئے، شمیم نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک الگ مقدمہ درج کیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے زور دے کر کہا ’’مجرموں کی درست شناخت میں وقت لگے گا، لیکن کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔‘‘ خبر کے مطابق پولیس کو صبح کے وقت عوامی اعلانات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور دکانداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کاروبار دوبارہ شروع کریں اور رہائشیوں کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی ترغیب دیں۔ جاوید شمیم نے کہا ’’پولیس کی پہلی ترجیح مرشد آباد میں مکمل طور پر معمول کی صورت حال بحال کرنا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ صورت حال جلد ہی حاصل کر لی جائے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


