Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


امت شاہ نے 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کے مکمل خاتمے کا ہدف رکھا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے سیکورٹی آپریشنز، ترقیاتی منصوبوں، اور بحالی کی پالیسیوں کو جاری رکھا جائے گا۔ گڈچیرولی جیسے علاقوں میں پہلی بار بس سروس کا آغاز اس بات کی علامت ہے کہ یہ علاقے اب ترقی کی راہ پر ہیں۔

بھارت نے نکسل ازم (بائیں بازو کے انتہا پسندی یا ایل ڈبلیو ای) کے خلاف اپنی مہم کو تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سیکورٹی فورسز نے ماؤنوازوں کے مضبوط گڑھوں، جیسے کہ کوراگٹہ ہلز، پر قبضہ کیا اور سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سیکریٹری باسوراج کی ہلاکت ایک اہم موڑ ثابت …

چیلنجز کے باوجود، جیسے کہ عالمی تجارت میں اتار چڑھاؤ اور مالیاتی پابندیاں، بھارت اپنی خود انحصاری کی پالیسیوں کو مضبوط کر رہا ہے۔ رپورٹ تجویز دیتی ہے کہ بھارت کو نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ مل کر ایک قومی منصوبے کے تحت کام کرنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، پچھلے ایک دہائی میں 25 کروڑ سے زائد افراد غربت سے نکلے ہیں۔ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھ رہی ہے، اور تعلیم، صحت، اور غذائیت پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ ترقی نہ صرف معاشی بلکہ سماجی طور پر بھی بھارت کو مضبوط کر رہی ہے۔

بھارت کا طویل مدتی ہدف 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک سپر پاور بنائے گا۔ اس کے لیے بھارت کو بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، اور ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل کے ایک مطالعے کے مطابق، بھارت عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے رجحانات سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ حکومت کی پالیسیاں، جیسے کہ آزادانہ تجارت کے معاہدوں (ایف ٹی ایز) اور پی ایل آئی اسکیم، نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔

وژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے رپورٹ میں کئی اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے، ایک واحد نوڈل ایجنسی کے ذریعے گورننس کو ادارہ جاتی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔

دوسری جانب، پولیس حکام نے واضح کیا کہ یہ پابندی صرف یونیفارم کے استعمال تک محدود ہے اور اہلکار اپنی ذاتی زندگی میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ دہلی پولیس کا یہ اقدام دیگر شہروں کے پولیس محکموں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔

اس بیان نے ہندوستانی کمیونٹی اور نیوزی لینڈ کی پہلی ہندوستانی نژاد رکن پارلیمنٹ پریانکا رادھا کرشنن کی طرف سے شدید تنقید کو جنم دیاہے۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ کسی ایک نسل کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور اس طرح کے تبصرے ایک پوری کمیونٹی کے خلاف منفی تعصب کو تقویت دیتے ہیں۔

حماس نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے، لیکن مذاکرات ابھی جاری ہیں، اور کچھ اہم نکات پر اتفاق رائے باقی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے حماس نے "سرخ لکیر" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔