Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


ایئر چیف مارشل امرپریت سنگھ نے کہاکہ جہاں تک فضائیہ کی طاقت کا تعلق ہے، ہماری توجہ صلاحیت بڑھانے اور صلاحیت رکھنے پر ہے۔ ہم صرف بھارت میں پیداوار کے بارے میں بات نہیں کر سکتے، ہمیں بھارت میں ڈیزائننگ اور ترقی شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت کو مکمل طور پر مقامی طیارہ بنانا شروع سے ناممکن ہے، اس لیے عالمی ایوی ایشن کمپنیوں، جیسے کہ ایئربس اور بوئنگ، کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے۔ ایئربس اور بوئنگ نے بھارت میں اپنے تحقیقی اور ترقیاتی مراکز قائم کیے ہیں۔

میک ان انڈیا اور سوادیشی تحریک عالمی معاشی چیلنجوں، خاص طور پر چین سے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے تناظر میں اہم ہیں۔ مودی نے زور دیا کہ اگر بھارت 2047 تک عالمی معیشت میں تیسرے نمبر پر آنا چاہتا ہے تو غیر ملکی اشیا کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔

یہ ماڈیولز نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی ترقی کے لیے بھی اہم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ طلبہ کو اپنی ثقافت، ماحولیاتی تحفظ، اور جمہوری اقدار سے جوڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کھیلوں سے متعلق ماڈیول طلبہ کو جسمانی سرگرمیوں اور ٹیم ورک کی اہمیت سکھاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق  میک ان انڈیا وکست بھارت کے وژن کا ایک اہم جزو ہے، جو بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم مودی نے واضح کیا کہ یہ ہدف صرف حکومتی کوششوں سے نہیں بلکہ عوامی شراکت (سب کا پرایاس) سے حاصل ہوگا۔

گزشتہ سال غربت میں کمی بھارت کی معاشی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ تاہم، اسے برقرار رکھنے کے لیے معاشی ترقی کو سماجی انصاف اور ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ بھارت کی یہ کامیابی عالمی سطح پر بھی سراہی جا رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اور آپریشن سندور نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کی تباہی نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو پانچ سال پیچھے دھکیل دیا۔

آپریشن سندور کے دوران بھارت نے نہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں بلکہ پاکستانی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جو ایک نئی اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے چینی اور ترک ساختہ ہتھیاروں کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا۔

عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، جس سے اندرونی سیاسی بحث چھڑ گئی۔

اس سفارتی اقدام نے بھارت کو عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی دلائی ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس تنازع سے مکمل طور پر فاتح کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ آپریشن سندور جاری ہے اور موجودہ جنگ بندی صرف ایک وقفہ ہے۔