Bharat Express DD Free Dish

PM Modi’s Push for Swadeshi : وزیراعظم مودی کا سوادیشی اور میک ان انڈیا پر زور: بہترین وقت کا انتخاب

میک ان انڈیا اور سوادیشی تحریک عالمی معاشی چیلنجوں، خاص طور پر چین سے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے تناظر میں اہم ہیں۔ مودی نے زور دیا کہ اگر بھارت 2047 تک عالمی معیشت میں تیسرے نمبر پر آنا چاہتا ہے تو غیر ملکی اشیا کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے “سوادیشی” اور “میک ان انڈیا” کے ذریعے بھارت کو 2047 تک وکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت) بنانے کے لیے ایک مضبوط حکمت عملی پیش کی ہے۔ یہ اقدام مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور غیر ملکی اشیا پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے، جو موجودہ عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حالات میں بہترین وقت پر اٹھایا گیا قدم ہے۔ رپورٹ کے مطابق  اس حکمت عملی کو بھارتی صنعتی رہنماؤں اور عالمی شراکت داروں، جیسے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، کی حمایت حاصل ہے، جو بھارت کی عالمی قیادت کی طرف پیش قدمی کو مضبوط کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مودی نے عالمی طاقت کے توازن، تجارت کے چیلنجوں، اور سوادیشی تحریک کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ میک ان انڈیا کے تحت، بھارت نے الیکٹرانکس، دفاع، اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ مثال کے طور پر، بھارت کا 5G مارکیٹ امریکہ سے بڑا ہو گیا ہے، اور اب ملک 6G ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ،رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم نے 1.5 لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس اور 120 کے قریب یونیکارنز پیدا کیے ہیں، جو میک ان انڈیا کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اقدامات بھارت کو عالمی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر قائم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے سوادیشی تحریک کو معاشی خودمختاری اور قومی فخر سے جوڑا، جسے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریات سے متاثر قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ  کے مطابق، مودی نے مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کے لیے “لوکل کے لیے ووکل” کا نعرہ دیا، جو گاندھی جی کے سوادیشی اصولوں کی یاد دلاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد نہ صرف بھارت کی معیشت کو مضبوط کرنا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھارتی برانڈز کی شناخت قائم کرنا ہے۔ اسے یوگا گرو بابا رامدھیو جیسے رہنماؤں نے بھی سراہا، جنہوں نے غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کی ہے۔

میک ان انڈیا اور سوادیشی تحریک عالمی معاشی چیلنجوں، خاص طور پر چین سے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے تناظر میں اہم ہیں۔ مودی نے زور دیا کہ اگر بھارت 2047 تک عالمی معیشت میں تیسرے نمبر پر آنا چاہتا ہے تو غیر ملکی اشیا کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل معیشت، اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، رپورٹ میں ذکر ہے کہ ایئرپورٹس کی تعداد 74 سے بڑھ کر 155 سے زائد ہو گئی، اور میڈیکل کالجز کی تعداد دگنی ہوئی ہے، جو میک ان انڈیا کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔وزیراعظم مودی کا سوادیشی اور میک ان انڈیا پر زور بھارت کو عالمی معاشی اور ثقافتی قیادت کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف معاشی خودمختاری کو فروغ دیتی ہے بلکہ بھارتی شہریوں میں قومی فخر اور خود اعتمادی کو بھی بڑھاتی ہے۔رپورٹ  میں مودی کے اس بیان پر زور دیا گیا کہ وکست بھارت کا ہدف عوامی شراکت اور مقامی صلاحیتوں کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔ یہ اقدام بھارت کے روشن مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مضبوط کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read