Bharat Express DD Free Dish

Nisar Ahmad




Bharat Express News Network


کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے مورچہ سنبھال لیا ہے اور ہماچل پردیش میں اقتدارسے لے کرتنظیم تک میں تال میل بٹھانے کے لئے فارمولے پرغوروخوض شروع کردیا ہے۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہماچل پردیش میں گزشتہ کچھ دنوں سے پاراٹی اراکین اسملی میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندرسنگھ سکھو نے کہا کہ ریاست میں عام آدمی اورملازمین کی حکومت ہے، کچھ لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں، لیکن ہماری حکومت 5 سال تک چلے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔

ہماچل پردیش کانگریس میں بڑی بغاوت کے بعد وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے استعفیٰ کی پیشکش کی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ کانگریس یہاں وزیراعلیٰ تبدیل کرسکتی ہے۔ پارٹی ہائی کمان بھی اس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

شاہ عالم عرف گڈو جمالی کو پارٹی صدر اکھلیش یادو اور شیوپال یادو نے پارٹی کی ابتدائی رکنیت دلائی۔ شاہ عالم عرف گڈوجمالی بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کے ساتھ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔

کرناٹک میں راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کے لئے ہوئی ووٹنگ میں کانگریس لیڈر اجے ماکن، سید ناصر حسین، جی سی چندرشیکھر اور ایک بی جے پی امیدوار نارائن سا بھانڈا کو جیت ملی ہے۔ جبکہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے پانچویں امیدوار کپیندر ریڈی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آسٹریلیا کے بلے باز عثمان خواجہ نے ریٹائرمنٹ سے متعلق سوالوں کو خارج کردیا ہے۔ خواجہ آسٹریلیا کے لئے کھیلنا جاری رکھیں گے۔

آنجہانی پنجابی گلوکارسدھوموسے والا کا نام ایک بار پھرسوشل میڈیا پر زیربحث ہے۔ جلد ہی ان کے والدین اپنے خاندان میں ایک چھوٹے سے مہمان کا استقبال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

فرانس میں امریکہ، اسرائیل، مصر اورقطر کے افسران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق میٹنگ ہوئی تھی۔ اب امریکی صدر جو بائیڈن نے امید طاہرکی ہے کہ آئندہ 4 مارچ تک جنگ بندی ہوجائے گی۔

بہارکی سیاست میں گھمسان جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے عظیم اتحاد سے الگ ہونے کے بعد اب ایک ایک کرکے ایم ایل اے بھی دوری بنانے لگے ہیں۔ منگل کو یہ نظارہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب عظیم اتحاد کے تین اراکین اسمبلی بہار کے نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے ساتھ اسمبلی پہنچے۔ 

ڈاکٹرشفیق الرحمٰن برق کی پیدائش 11 جولائی 1930 کو اترپردیش کے سنبھل میں ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی سنبھل سے ہی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ شفیق الرحمن برق کا سیاسی کیریئرکافی طویل ہے۔ انہوں نے 1974 سے سنبھل اورمرادآبادی کی نمائندگی کی ہے۔