Bharat Express DD Free Dish

Nisar Ahmad




Bharat Express News Network


دہلی کے سیلم پور علاقے میں رہنے والے 17 سال کے کنال کا چاقوگھونپ کرقتل کردیا گیا۔ کنال کے اہل خانہ علاقے میں ملزمین کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علاقے کے لوگوں نے مل کر احتجاجی مارچ نکالا اور ہندووں کی نقل مکانی کا دعویٰ کیا۔

غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے ٹیلی گرام پربتایا کہ "ہمارے عملے نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ کے علاقے میں براکہ خاندان کے گھر اور ہمسایہ مکانات سے 10 شہداء اوربڑی تعداد میں زخمی برآمد کئے، جنہیں اسرائیلی قابض فوج نے نشانہ بنایا۔

وزیراعظم نریندرمودی نے ا مریکہ کے عظیم بزنس مین اورٹیسلا کے سی ای اوایلن مسک سے بات کی ہے۔ اس کی جانکاری وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پردی ہے۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے آبوروڈ واقع برہما کماریز کے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی قربانیوں سے ہی ملک محفوظ ہے۔ ”راج یوگ دھیان“ سے انہیں ذہنی سکون ملے گا۔

مہلوک کنال کی ماں نے کہا کہ پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور ابھی تک ملزمین کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ بڑی تعداد میں پولیس فورس موقع پرموجود ہے۔ مقامی لوگ ملزمین کوگرفتار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہیں مہلوک نوجوان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ملزمین کو پھانسی ہونی چاہئے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ نئے قانون کے جن نکات پرسخت اعتراض تھا، وکلاء کی پوری بحث انہیں نکات پرمرکوزرہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعات وقف جائیداد کے لئے بہت ہی تباہ کن ہیں، لیکن افسوس کہ ہماری بات نہیں سنی گئی۔

وقف قانون سے متعلق  درخواست پرسماعت کرنے والی بنچ میں چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ، جسٹس سنجےکماراورجسٹس کے وی وشوا ناتھن شامل ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن کے اراکین اورمسلم تنظیموں کی طرف سے داخل عرضیوں پرروک نہیں لگائی گئی تو دوسری جانب حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے سات دنوں  کا وقت دے دیا، لیکن کسی بھی طرح کی تقرری پر عدالت نے روک لگا دی اور موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وقف املاک کی حیثیت تب تک نہیں بدلے گی جب تک کہ مرکزکا جواب نہیں آجاتا۔ عدالت کی طرف سے وقف قرار دی گئی جائیداد کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔ خواہ یہ وقف صارف کے ذریعہ ہو یا عمل کے ذریعہ۔ وقف بورڈ اور سینٹرل وقف کونسل میں کوئی نئی تقرری نہیں ہوگی۔

مرکزی تعلیمی بورڈ کی کوشش رہی ہے کہ اس کی تیارکردہ سابقہ کتابوں پرنظرثانی ہوتی رہے۔ مرکزی تعلیمی پالیسی کے مطابق انھیں اپ ڈیٹ کیا جائے، ساتھ ہی نئی کتابیں بھی تیارکی جائیں۔