Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


فرانس میں اس سے قبل کئی بار اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی کوشش توہین آمیز خاکے شائع کر کے کی جا چکی ہے۔ تاہم اب مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور نمازیوں کا خون بہایا گیا ہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کتاب 'دی ہندو منیفیسٹو' کی ریلیز کے دوران پہلگام حملے پر بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی رعایا کی حفاظت کرنا حکمران کا فرض ہے۔

پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نےگلمرگ میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ کی تقریب منائی تھی، جس میں کئی سیاستدانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کے لیے انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس، پہلگام میں سیاحوں کے تحفظ کے لیے اتنے ٹھوس انتظامات نظر نہیں آئے، جس نے عوامی سطح پر سیکورٹی کی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے۔

سندھو آبی معاہدہ کی منسوخی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے حال ہی میں خون بہانے کی دھمکی دی تھی۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اس معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت کی جانب سے چھوڑے جانے والے پانی کے باعث پاکستان میں مظفرآباد کے علاقے ہٹین بالا میں سیلاب آگیا ہے۔

کانپور میئر نے کہا کہ ’’شیام نگر میں ایک پارک اور چوک کا نام شبھم دویدی کے نام پر رکھا جائے گا۔ پارک اور چوک کا نام شبھم دویدی کے نام پر رکھنا انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک بہتر طریقہ ۔‘‘

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارتی حکومت ایکشن موڈ میں ہے۔ دریں اثناء سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ 31 سال قبل پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پی او کے ہندوستان کا حصہ ہے۔

میرٹھ کے محلہ گھوسیان باشندہ پیر الدین کی بیٹی ثنا مشکل میں پھنسی، اس کی شادی پاکستان میں ہوئی تھی اور وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ثنا اپنے 2 بچوں کو لے کر ہندوستان آئی تھی، اسے 45 دنوں کا ویزا ملا تھا جو اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔

غزہ میں انسانی امداد کی قلت میں اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور خطرات کے تعلق سے انتباہ۔ جنگ زدہ فلسطینی علاقے میں انسانی امداد کے داخلے پر اسرائیلی پابندی ختم کرنے کی ضرورت پر زور ۔

یہ کامیابیاں ہمارے نوجوانوں اور خواتین کے عزم کے بغیر ممکن نہیں تھیں جنہوں نے محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور قوم کے لیے لگن کا ایک مثالی نمونہ قائم کیا ہے۔ ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں مملکت کی کامیابیوں نے اسے تبدیلی اور ترقی کے لیے ایک عالمی نمونہ بنا دیا ہے۔