Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


حادثے میں بولیرو گاڑی پوری طرح سے تباہ ہوگئی جس کے سبب زخمیوں کو گاڑی سے باہر نکالنے میں کرین کی مدد لی گئی۔ مرنے والے ہر شخص کے اہل خانہ کو پی ایم این آر ایف سے 2 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی کا ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا، اور 1999 کے بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دوطرفہ دورہ ہے۔ وہ اس دورے کے دوران ارجنٹینا، برازیل، اور نمیبیا بھی جائیں گے۔ وزیر اعظم 5 جولائی سے 8 جولائی کے دوران برازیل کے دورے میں 17ویں BRICS سربراہی اجلاس 2025 میں شرکت کریں گے، جس کے بعد وہ ایک سرکاری ریاستی دورے پر جنوبی امریکی ملک برازیل بھی جائیں گے۔

گھانا وزیراعظم کے 2 سے 9 جولائی کے پانچ ممالک کے دورے کا پہلا پڑاؤ ہے، جس میں وہ ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، ارجنٹینا، برازیل، اور نمیبیا کا بھی دورہ کریں گے۔ یہ گزشتہ 30 برسوں میں کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا گھانا کا پہلا دورہ ہے۔

قزاقستان کے صدر نے چہرہ ڈھکنے سے متعلق بنے نئے قانون کو ملک کی روایتی شناخت کو فروغ دینے والا بتایا۔ ان کا کہنا ہے کہ چہرہ چھپانے والے کپڑوں کی جگہ لوگ قزاقستان کے روایتی کپڑے پہنیں۔

ہند- پاک کشیدگی کے بعد کئی پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس جن میں ماورا حسین، صبا قمر، احد رضا میر، یمنا زیدی اور دانش تیمور شامل ہیں ہندوستان میں پھر سے ایکٹیو ہوگئے تھے جنہیں بعد میں بند کردیا گیا۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔

جے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہر پارٹی سے صرف دو نمائندوں کو ملاقات کی اجازت دی، جس کی وجہ سے کئی اہم رہنما کمیشن سے اپنی بات نہیں کہہ سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق وہ خود تقریباً دو گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھے رہے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔

اقوام متحدہ نے بھی وزیراعظم مودی کو ماحولیات کے تحفظ کے لیے چیمپئن آف دی ارتھ ایوارڈ سے سرفراز کیا، جو ماحولیاتی قیادت کا سب سے اعلیٰ عالمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گھانا کے صدر جان مہاما کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے تجارتی اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔

جب گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب بھی کوئی پالیسی، کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ کیا اب بھارتی کسان اپنی ہی زمین پر بےبس ہو جائے گا؟ جب قیمتی وقت اور صحت مند فصلیں ضائع ہو رہی ہیں، کسان، جو قرض اور مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے، یہ سوال پوچھ رہا ہے ’’ کس کا ساتھ، کس کا وکاس‘‘؟