Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


وزیراعظم مودی نے آخر میں طلبہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دباؤ سے گھبرانے کے بجائے خود پر اعتماد رکھیں، مثبت سوچ اپنائیں اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں، مناسب نیند لیں، متوازن غذا کھائیں اور جسمانی سرگرمیوں کو بھی اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ذہنی دباؤ سے بچ سکیں اور بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

کرکٹ شائقین اور عالمی کرکٹ حلقے بھارت-پاکستان میچ کے حتمی فیصلے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہ مقابلہ نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ تصور کیا جاتا ہے بلکہ کمرشل، اسپورٹنگ اور سفارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ 9 فروری کو بستر کے دورے پر جائیں گے، جہاں وہ ’بستر پندوم-2026‘ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے اور اس ثقافتی و عوامی پروگرام کا باقاعدہ اختتام کریں گے۔

’پریکشا پہ چرچا 2026‘ کے دوسرے ایپی سوڈ میں ملک کے مختلف حصوں کے طلبہ سے مکالمہ۔ وزیراعظم نے کہا غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہمارے طلبہ میں اپنے خوابوں کو سچ کرنے کی بھرپور طاقت موجود ہے۔ ’پریکشا پہ چرچا‘ کا مقصد بھی یہی ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا مثبت اور بامقصد استعمال سیکھیں۔

الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت کا الزام۔ فارم-7 کا استعمال ووٹروں کی فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے یا موجودہ نام کو حذف کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو کا الزام ہے کہ اس فارم کا استعمال جان بوجھ کر سماجوادی پارٹی کے حامی ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ بھارت اور ملائیشیا نہ صرف اپنے تاریخی رشتوں کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں بلکہ مستقبل میں خطے کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہیں۔

مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا ’’دہشت گردی کے خلاف ہمارا پیغام بالکل واضح ہے نہ کوئی دوہرا معیار اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔ ہم امن کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے اور دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ وزیراعظم مودی نے ملیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر شکریہ ادا کیا اور انہیں بھارت کے دورے کی دعوت بھی دی۔

اقتصادی تعاون، دفاع، سلامتی، صاف توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ اور اسکل ڈیولپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو۔ وزیر اعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے اقتصادی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

جاپان کے یہ عام انتخابات نہ صرف وزیراعظم سنائی تاکائچی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ ملک کے اندر سیاسی استحکام یا عدم استحکام کی سمت بھی طے کریں گے۔ ایسے میں پوری دنیا کی نظریں ٹوکیو پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس انتخاب کے نتائج جاپان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔