Habiburrahman
Bharat Express News Network
Pariksha Pe Charcha: ’پریکشا پہ چرچا‘ کے نویں ایڈیشن میں وزیراعظم نے طلبہ کو دیے اہم مشورے، نظم و ضبط، خود اعتمادی اور ’وکست بھارت 2047‘ پر زور
وزیراعظم مودی نے آخر میں طلبہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دباؤ سے گھبرانے کے بجائے خود پر اعتماد رکھیں، مثبت سوچ اپنائیں اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں، مناسب نیند لیں، متوازن غذا کھائیں اور جسمانی سرگرمیوں کو بھی اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ذہنی دباؤ سے بچ سکیں اور بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
ICC T20 World Cup: بھارت-پاکستان ورلڈ کپ میچ تنازع پر جلد پیش رفت متوقع، آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے درمیان لاہور میں اعلیٰ سطحی ملاقات
کرکٹ شائقین اور عالمی کرکٹ حلقے بھارت-پاکستان میچ کے حتمی فیصلے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہ مقابلہ نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ تصور کیا جاتا ہے بلکہ کمرشل، اسپورٹنگ اور سفارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
Naxalism Eradication: وزیرداخلہ امت شاہ کا رائے پور میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس، کہا-’’چھتیس گڑھ میں 31 مارچ سے پہلے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا‘‘
مرکزی وزیر داخلہ 9 فروری کو بستر کے دورے پر جائیں گے، جہاں وہ ’بستر پندوم-2026‘ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے اور اس ثقافتی و عوامی پروگرام کا باقاعدہ اختتام کریں گے۔
Pariksha Pe Charcha: وزیراعظم مودی کا طلبہ پر اعتماد، کہا-’’ہمارے طلبہ میں اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کی پوری صلاحیت‘‘
’پریکشا پہ چرچا 2026‘ کے دوسرے ایپی سوڈ میں ملک کے مختلف حصوں کے طلبہ سے مکالمہ۔ وزیراعظم نے کہا غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہمارے طلبہ میں اپنے خوابوں کو سچ کرنے کی بھرپور طاقت موجود ہے۔ ’پریکشا پہ چرچا‘ کا مقصد بھی یہی ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا مثبت اور بامقصد استعمال سیکھیں۔
Akhilesh Yadav alleges EC: ’’الیکشن کمیشن بی جے پی کا جھنڈا ہی لہرا دے‘‘ اکھلیش یادو کا فارم-7 کے مبینہ غلط استعمال پر سنگین الزام
الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت کا الزام۔ فارم-7 کا استعمال ووٹروں کی فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے یا موجودہ نام کو حذف کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو کا الزام ہے کہ اس فارم کا استعمال جان بوجھ کر سماجوادی پارٹی کے حامی ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
PM Modi departs for India: دو روزہ دورہ مکمل کر کے وزیراعظم مودی بھارت روانہ، بھارت–ملیشیا تعلقات میں نئی جہت
وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ بھارت اور ملائیشیا نہ صرف اپنے تاریخی رشتوں کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں بلکہ مستقبل میں خطے کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہیں۔
Iran Uranium Enrichment: امریکہ سے مذاکرات کے بعد عباس عراقچی کا دوٹوک اعلان، کہا-’’یورینیم افزودگی پروگرام ہرگز ترک نہیں کرے گا ایران‘‘
مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
No compromises on terrorism: ملیشیا میں مشترکہ پریس کانفرنس سے وزیراعظم کا خطاب، کہا-’’دہشت گردی پر کوئی دوہرا معیار نہیں، ہمارا پیغام واضح‘‘
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا ’’دہشت گردی کے خلاف ہمارا پیغام بالکل واضح ہے نہ کوئی دوہرا معیار اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔ ہم امن کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے اور دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ وزیراعظم مودی نے ملیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی مہمان نوازی اور گرمجوش استقبال پر شکریہ ادا کیا اور انہیں بھارت کے دورے کی دعوت بھی دی۔
PM Modi held bilateral talks: وزیراعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان کوالالمپور میں اہم دو طرفہ مذاکرات، تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق
اقتصادی تعاون، دفاع، سلامتی، صاف توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ اور اسکل ڈیولپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو۔ وزیر اعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے اقتصادی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔
Japan’s general election: جاپان کے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز، وزیراعظم سنائی تاکائچی کی قیادت پر ریفرنڈم قرار
جاپان کے یہ عام انتخابات نہ صرف وزیراعظم سنائی تاکائچی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ ملک کے اندر سیاسی استحکام یا عدم استحکام کی سمت بھی طے کریں گے۔ ایسے میں پوری دنیا کی نظریں ٹوکیو پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس انتخاب کے نتائج جاپان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔




