Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس گروپ یہ ثابت کرے گا کہ اے آئی روزگار ختم نہیں کرتا بلکہ اعلیٰ مہارت والے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کون استعمال کی رفتار اور وسعت کے لیے سب سے مضبوط ماحولیاتی نظام قائم کر سکتا ہے۔

سندر پچائی نے حکومتوں اور صنعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کریں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے مثبت نتائج خود بخود یقینی نہیں ہوتے، اس کے لیے درست سمت اور نگرانی ضروری ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

فرانس کے صدر میکروں نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی ستائش۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر بھارت–فرانس اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلۂ خیال۔

سید سعادت اللہ حسینی نے رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم رہے، چاہے بیرونی دباؤ ہو یا اندرونی خواہشات کا زور۔ انہوں نے کہا کہ روزہ بھوک، پیاس، مصروفیات اور توجہ بٹانے والے عوامل کے باوجود ضبطِ نفس کی تربیت دیتا ہے تاکہ انسانی زندگی نفس کے بجائے اللہ کے احکام کی تابع ہو۔

سمٹ کی رہنمائی تین بنیادی ستونوں عوام، سیارہ اور ترقی کے تحت کی جا رہی ہے۔ یہ ستون عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے بنیادی اصول بیان کرتے ہیں، جن میں انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ انسان مرکز اے آئی، ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی، اور جامع معاشی و تکنیکی پیش رفت شامل ہیں۔

جیت اڈانی نے اعادہ کیا کہ اڈانی گروپ ملک کے لیے خودمختار، سبز توانائی سے چلنے والا اے آئی انفراسٹرکچر پلیٹ فارم قائم کرنے کے لیے 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی اعلیٰ قدر، تخلیقی اور بامقصد کاموں کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ اس سے اختراع، صنعت کاری اور نئے شعبہ جات کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مہارت سازی، از سر نو مہارت حاصل کرنے اور تاحیات تعلیم کو عوامی تحریک بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

ٹیکنالوجی، بلیو اکانومی اور انڈیا-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت پر زور۔ یہ ملاقات حیدرآباد ہاؤس میں ہوئی جس میں بھارت اور کروشیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی شراکت داری کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چندرشیکھر نے اس سمٹ کو وزیر اعظم کے ’’انڈیا ٹیکاڈ‘‘ اور ’’سیکنڈ ویو‘‘ وژن کا اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی بھی بڑے پروگرام میں تنظیمی خامیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ملک میں اے آئی اپنانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی رفتار تیز ہو۔