Bharat Express DD Free Dish

US-India Defense Partnership: امریکہ۔ہنددفاعی شراکت داری کو عملی شکل دینا

امریکہ۔ہند اہم دفاعی شراکت کے لےت فریم ورک کی تشکیل امریکہ ۔ہندسلامتی تعاون کو بہتر بنانے کے علاوہ باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کرے گی اور صنعتوں کو آپس میں مربوط کرنے کا سبب بھی بنےگی۔

چاروی اروڑا

بحرِ ہند میں سمندری تحفظ  سے لے کر جدید دفاعی ٹیکنالوجیوں کی مشترکہ تیاری  تک  امریکہ ۔ ہند دفاعی تعاون اپنے دائرے اور عزائم دونوں لحاظ سے وسیع ہو رہا ہے۔ حال ہی میں دستخط شدہ امریکہ۔ہندوستان میجر ڈیفنس پارٹنرشپ کا فریم ورک آئندہ دہائی کے  لیے عملی اور صنعتی تعاون کی سمت متعین کرتا ہے۔ ہر دس سال بعد تجدید  کی لازمیت سے متصف یہ فریم ورک دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی بنیاد اور  ایک کلیدی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان  اسٹریٹجک ہم آہنگی  اور خطے میں تصادم کی روک تھام کے عزم کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یہ بڑی دفاعی شراکت داری کو وژن اور سمت عطا کرتا ہے جس سے امریکی اور ہندوستانی  دونوں نظام مستفید ہوتے ہیں۔

علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا

علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اس شراکت کا بنیادی محور ہیں ۔ دوطرفہ دفاعی تعاون  حربی ، عملی اور اسٹریٹجک سطحو پر باہمی  استعداد اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہےجس کے نتیجے میں کثیرالجہتی اقدامات، مثلاً کواڈ اور کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے تحت ہونے والی سرگرمیاں، مزید مؤثر ہو جاتی ہیں۔ بحری تعاون کی اہمیت کلیدی ہے۔ امریکہ کا ہندوستان کے ساتھ تعلق مشرقی افریقہ سے لے کرآبنائےملکّا  اور اس  سے بعید تک پھیلا ہوا ہے۔ امریکہ کا ہندوستانی بحریہ کے ساتھ تعاون ، جو بحر ہند میں واحد بحری فوج ہے، دنیا کے دو تہائی تیل اور ایک تہائی سازو سامان کی آمد و رفت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

باہمی اشتراکِ عمل کا عملی مظاہرہ

یہ فریم ورک تمام عسکری جہتوں  میں باہمی ہم آہنگی پر زور دیتا ہے ۔ یُدھ ابھیاس ، مالا بار، ٹائیگر ٹرائمف  اور کو پ انڈیا جیسی  مشقیں زمینی، بحری، فضائی، خلائی اور سائبر عناصر کو یکجا کرتی ہیں، جس سے امریکی اور ہندوستانی افواج کی مشترکہ کارروائی کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔ رسدی تعاون اس ہم آہنگی کو مزید تقویت بخشتا ہے۔مشترکہ فضائی نقل و حمل کی سہولت ، فضا میں ایندھن بھرنے  اور سمندر میں رسد کی بحالی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے علاقائی چیلنجوں اور انسانی ہمدردی کے بحرانوں پر تیز رفتار اور مؤثر رد عمل ممکن ہوتا ہے۔  اطلاعات کا تبادلہ بھی  اسی قدر اہمیت کا حامل ہے۔ محفوظ  مواصلات اور ڈیٹا کا اشتراک میدانِ عمل کی ایک مشترکہ تصویربنانے میں مدد دیتا ہے۔ اور یہ فریم ورک ہر سطح پر معلومات کے بہتر تبادلے پر زور دیتا ہے تاکہ  صورت حال اور ماحول کی بہتر تفہیم میں بہتری آئے۔ معاہدہ برائے مواصلات، مطابقت اور سلامتی (کامکاسا )  کے بشمول اور معاہدہ برائے بنیادی تبادلہ اور تعاون(بیکا )اس   ہم آہنگی کو تقویت دیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ امریکی اور ہندوستانی افواج  امن ، بحران  اور ہنگامی حالات میں مؤثر طور پر رابطہ قائم رکھ سکیں۔

ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون

عملی  تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے، یہ فریم ورک دفاعی تجارت اور صنعتی تعاون کو وسعت دیتا ہے۔ فریم ورک کی اعلیٰ سطحی رہنمائی دفاعی فروخت اور مشترکہ پیداوار میں اضافے کے لیے ایک کلیدی محرک فراہم کرتی ہے اور دونوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ مگر اس کا محور صرف تجارت میں اضافہ نہیں۔ یہ فریم ورک دونوں ممالک کے تعاون کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے اور دوطرفہ دفاعی تعلقات میں اس ارتقاء کی نمائندگی کرتا ہے جو روایتی ’خریدار اور فروخت کنندہ‘ کے تعلق کو ایک ایسی حقیقی شراکت داری میں بدل رہا ہے جو دونوں ممالک کی تکنیکی طاقت اور پیداواری  صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔ ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیاں اس تبدیلی کا مرکز ہیں۔ مصنوعی ذہانت ، انسان اور مشین کا مشترکہ کام، جدید مواد اور  پیداوار میں تعاون اس بات کی عکّاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک تکنیکی برتری برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ طور پر کوشش کر رہے ہیں۔

یہ فریم ورک  اہم شعبوں میں مشترکہ ترقی اور پیداوار کا تصور پیش کرتا ہے جن میں  خفیہ معلومات کا حصول ، نگرانی اور معلوماتی جائزہ ، زیر سمندر جغرافیائی ادراک ، فضائی جنگی اور معاون نظام، فضائی اور خلائی میدان، اسلحہ اور نقل و حرکت شامل ہیں۔ یہ ہندوستان کو ڈھانچہ جاتی، نگہداشت، مرمت  و دیکھ بھال کے علاقائی مرکز کے طور پر ترقی دینے، دفاعی ساز و سامان کے لیے بازار تک رسائی بڑھانے  اور درآمداتی کنٹرول پر پابندیوں کا جائزہ لینے کی بھی حمایت کرتا ہے۔

نجی شعبے کی شمولیت ان کوششوں کا محور ہے۔ امریکہ ۔ ہند دفاعی تکنیک اور تجارت سے متعلق پہل (ڈی ٹی ٹی آئی ) اور ہند۔ امریکی دفاعی  ترقیاتی نظام (اِنڈس۔ ایکس )امریکی اور ہندوستانی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور محققین کے درمیان نجی شعبے کی شراکت داریوں کو فروغ دیتے رہیں گے۔ یہ اقدامات رسدی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور صنعتی استحکام و لچک کو تقویت دینے کا باعث بنتے ہیں۔

تربیت کے ذریعے اعتماد سازی

پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی سے آگے بڑھ کر، یہ فریم ورک انسانی وسائل پر بھی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ یہ تعلیم و تدریس کو مشترکہ مشقوں سے مزید ہم آہنگ کر کے، زیادہ مربوط اور عملی طور پر کارآمد تربیت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ فوجی تعلیم (پی ایم ای ) اس شراکت داری کا ایک مرکزی ستون ہے۔ یہ فریم ورک بین الاقوامی فوجی تعلیم و تربیت  (آئی میٹ) کے ذریعے موجودہ مضبوط دوطرفہ  پیشہ ورانہ فوجی تعلیم کے روابط کو مزید تقویت دیتا ہے۔ تبادلوں میں وسعت اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کا مقصد وقت کے ساتھ ساتھ باہمی شناسائی اور اعتماد کو فروغ دینا ہے، کیونکہ عملے کے تبادلوں کو ادارہ جاتی شکل دینے سے طویل مدتی پیشہ ورانہ تعلقات مستحکم ہوں گے اور  حکمت عملی ، عمل درآمد  اور اسٹریٹجک سطحوں پر تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read