Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


کولمبو میں 61 رنز کی شاندار فتح، ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کی مسلسل تیسری کامیابی۔ بھارت نے اس سے قبل اپنے پہلے میچ میں امریکہ کو 29 رنز سے ہرایا تھا جبکہ نمیبیا کو 93 رنز سے شکست دی تھی۔ اب بھارتی ٹیم 18 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف اپنا آخری لیگ میچ کھیلے گی۔

اوباما نے ڈیموکریٹس کو خبردار کیا کہ وہ سیاسی مخالفت میں حد سے نہ گزریں اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’’اگر ہم بھی وہی طریقہ اختیار کریں جس میں سچائی کی پروا نہ ہو اور جمہوری حدود کو پامال کیا جائے، تو ہم وہی کچھ کھو دیں گے جس کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بطور صدر وہ بعض سخت اقدامات کر سکتے تھے، مگر ایسا کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہوتا۔

176 رنوں کے تعاقب میں پاکستان کے ابتدائی بلے باز پوری طرح ناکام ہوئے۔ پہلے ہی اوور میں ہاردک پانڈیا نے صاحبزادہ فرحان کو بنا کھاتا کھولے پویلین واپس بھیج دیا۔ اگلے ہی اوور میں جسپریت بمراہ نے پاکستان کے بیٹنگ آرڈر کو تہس نہس کردیا اور ایک ہی اوور میں دو بلے بازوں صائم ایوب اور پھر پاکستانی کپتان سلمان آغا کو واپس بھیج دیا۔ تجربہ کار بلے باز بابراعظم بھی 4 رنوں کے مجموعی اسکور پر اکشر پٹیل کا شکار ہوکر پویلین لوٹ چکے ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب راہل گاندھی نے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں ایم ایس پی کو حکومت پر اپنی تنقید کا مرکزی نکتہ بنایا تھا، خاص طور پر بھارت-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے تناظر میں۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ یہ معاہدہ کسانوں کے ساتھ ’غداری‘ ہے جس سے سرکاری خریداری کا نظام کمزور ہو سکتا ہے اور ایم ایس پی و بونس میں کمی آسکتی ہے۔

اکھیلیش یادو نے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری اور بھارت-امریکہ معاشی تعلقات کے تناظر میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ جیسے پروگراموں پر سوالات اٹھائے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں بھارت اور پاکستان آٹھ مرتبہ آمنے سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے سات میں بھارت نے کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان صرف ایک میچ جیت سکا ہے۔ مجموعی طور پر دونوں ٹیمیں ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 بار مدمقابل ہو چکی ہیں۔ ان میں بھارت نے 13 جبکہ پاکستان نے تین فتوحات حاصل کی ہیں۔

بھارت-پاکستان مقابلہ اپنی شدت اور جذباتی وابستگی کے لیے جانا جاتا ہے، اور ایک بار پھر اس تاریخی رقابت نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ جیسے جیسے میچ کا وقت قریب آرہا ہے، شائقین کا جوش عروج پر پہنچ گیا۔

راہل گاندھی کے مطابق’’ٹیکسٹائل صنعت اور کپاس کی کاشت بھارت میں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی انہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں پر ضرب لگانے کا مطلب لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنا ہے۔ قومی مفاد میں سوچنے والی حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔‘‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد صدر کے عہدے میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس منصب کے لیے سینئر رہنما ڈاکٹر خنداکر مشرف حسین کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نئی حکومت کی تشکیل بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں تجربہ کار قیادت اور نئی نسل کے رہنماؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیرداخلہ نے گاندھی نگر میں سی بی ڈی سی پر مبنی پی ڈی ایس کا افتتاح کرتے ہوئے تجارتی معاہدوں پر اپوزیشن کو گمراہ کن بیانات کے لیے ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے قرض معافی کے وعدوں سے کسانوں کو گمراہ کیا، جبکہ موجودہ حکومت کسانوں کو سالانہ مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں قرض لینے کی نوبت نہ آئے۔