نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان حکومت ہند نے کہا ہے کہ ملک میں خام تیل (Crude Oil) کی دستیابی معمول کے مطابق ہے، تاہم ایل پی جی (LPG) کی صورتحال اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے ایک بین وزارتی پریس بریفنگ میں بتایا کہ: ’’ملک میں خام تیل کی دستیابی معمول کے مطابق ہے اور ہماری ریفائنریز بہترین سطح پر کام کر رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے یقین دلایا کہ پیٹرول پمپس پر کسی قسم کی قلت (Dry Out) کی اطلاع نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کرنا چاہیے۔
ایل پی جی کی قلت برقرار، لائنوں میں اضافہ
سجاتا شرما نے کہا کہ اگرچہ آن لائن بکنگ میں بہتری آئی ہے، لیکن ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے مراکز پر اب بھی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق: گھریلو ایل پی جی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود طلب اور رسد کے درمیان توازن ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ حکومت نے بتایا کہ: ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) کے ذخائر کافی ہیں۔ آئل کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔
PNG کے فروغ پر زور، متبادل ایندھن کا استعمال
وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ شہری علاقوں میں پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کے استعمال کو فروغ دینا، سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (CGD) نیٹ ورک کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کو پائپ لائن بچھانے کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے لیے مٹی کا تیل (Kerosene) اور کوئلہ جیسے متبادل ایندھن کو فعال کیا گیا ہے۔ تجارتی صارفین کو ایل پی جی سے PNG پر منتقل ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
مغربی ایشیا کی کشیدگی کا اثر
حکومت نے تسلیم کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر ہندوستان کی ایل پی جی سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ مجموعی طور پر حکومت کا کہنا ہے کہ جہاں خام تیل اور دیگر ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، وہیں ایل پی جی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

