Bharat Express DD Free Dish

Gas Supply

مرکز کی مودی حکومت نے ہفتہ کے روز بتایا کہ کھاد (فرٹیلائزر) کارخانوں کو مختص کی گئی مجموعی گیس میں مزید 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے یہ ان کے چھ ماہ کے اوسط استعمال کے تقریباً 95 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافہ دستیاب گیس اسٹاک اور طے شدہ ایل این جی کارگو کی سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے ہیں، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہو گئی ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ رہا ہے۔

حکومت کے مطابق 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے نئے رہنما اصولوں کے مطابق کمرشل ایل پی جی کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 13,479 میٹرک ٹن ایل پی جی کی سپلائی کی گئی، جبکہ سرکاری تیل کمپنیاں دیگر علاقوں میں بھی گیس کی دستیابی یقینی بنا رہی ہیں۔

حکومت نے تسلیم کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر ہندوستان کی ایل پی جی سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ مجموعی طور پر حکومت کا کہنا ہے کہ جہاں خام تیل اور دیگر ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، وہیں ایل پی جی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔

ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے مختلف ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کنٹرول روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔ حکام نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں گیس بکنگ نہ کریں، ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کریں اور بلا ضرورت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔

وزارت نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں گیس بکنگ نہ کریں، آن لائن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بکنگ کریں اور بلا ضرورت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت گھریلو صارفین کے مفادات کو ترجیح دیتی رہے گی اور گھروں کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے اہم شعبوں کے لیے ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔